اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)گاڑیوں کی خریداری کیلئے مقامی بینکوں کی جانب سے اکتوبر2025کے دوران قرضہ جات کے اجراءمیں ماہانہ اورسالانہ بنیادوں پراضافہ ریکارڈکیا گیا ۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعدادوشمارکے مطابق اکتوبر2025کے اختتام پر گاڑیوں کی خریداری کیلئے بینکوں کی جانب سے قرضہ جات کے اجراءکاحجم 315ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ سال اکتوبرکے مقابلے میں 33.7فیصدزیادہ ہے۔
گزشتہ سال اکتوبرکے اختتام پرگاڑیوں کی خریداری کیلئے بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ قرضہ جات کاحجم 236ارب روپے ریکارڈکیاگیاتھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:100 روپے مالیت کے انعامی بانڈز کے نتائج کا اعلان
ستمبرکے مقابلے میں اکتوبرمیں گاڑیوں کی خریداری کیلئے بینکوں کی جانب سے قرضہ جات کے اجراءمیں ماہانہ بنیادوں پر3.5فیصدکی نموہوئی ہے۔
ستمبرکے اختتام پرگاڑیوں کی خریداری کیلئے بینکوں کی جانب سے قرضہ جات کے اجراءکاحجم 305ارب روپے ریکارڈکیاگیاتھاجواکتوبرمیں بڑھ کر315ارب روپے ہوگیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران پاکستانی آٹوموٹیو انڈسٹری کے منظرنامے نے ایک حیرت انگیز کروٹ لی ہے، اور مسلسل مہنگی ہوتی گاڑیوں کی قیمتیں اچانک سے زمین پر آگئی ہیں، گزشتہ چند روز کے دوران کئی کار مینوفیکچررز نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا ہے۔
قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان کیا کے ماڈل اسٹونک میں 15 لاکھ روپے کی کمی سے شروع ہوا، اس کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔
کمپنیوں کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ تو نہیں بتائی گئی البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی گرتی ہوئی سیلز پر کمپنیاں کافی پریشان ہیں اور صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے آفرز پیش کر رہی ہیں۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بلند شرح سود کی وجہ سے صارفین نئی گاڑیوں کی خریداری میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ اس رجحان کی وجہ سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں مشکلات کا شکار تھیں اور انہیں نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ قیمتوں میں کمی کے پیچھے کلیدی محرکات میں سے ایک نظرثانی شدہ گُڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے ضوابط کا نفاذ ہے۔ کاروں کی نئی قیمت کی حد اب 4.69 ملین اور 4.77 ملین روپے کے درمیان آگئی ہے جو کہ پہلے 4.83 ملین سے 6.28 ملین روپے کے درمیان تھی، یہ قابل ذکر تبدیلی گاڑیوں پر 25 فیصد جی ایس ٹی کے گہرے اثرات کو واضح کرتی ہے۔




