مظفرآباد: محکمہ برقیات آزاد کشمیر کے ترجمان نے کہا ہے کہ بجلی کے انداخ میں کمی کے بعد بجلی کے استعمال میں بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بجلی کی مجموعی کھپت جو کہ موسم سرما یا گرما میں 350 میگا واٹ تک جاتی تھی وہ رواں سال گرمی کے موسم میں 570 میگا واٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو مجموعی استعمال سے تقریبا 40 فیصد زیادہ ہے ۔
اس اضافہ سے بجلی کا نیٹ ورک شدید متاثر ہو رہا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موسم گرما ماہ مئی تا اکتو بر آزاد کشمیر بھر میں 5056 ٹرانسفارمر جل گئے ، جن کی ضروری مرمتی کروا کر دوبارہ تنصیب عمل میں لائی گئی۔
اس کے علاوہ فیڈرز پر بے تحاشا اضافہ کے باعث ان کی Upgradation کرنا پڑی، جس کے لیے حکومت آزاد کشمیر نے تقریبا 1.6 ارب روپے مختص کئے۔ اب جبکہ سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے مظفر آباد اور پونچھ ڈویژنز میں بجلی کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے فوری طور پر 40 کروڑ روپے مہیا کئے جانے کا تخمینہ مرتب کیا گیا ہے، تا کہ سردیوں میں آنے والے چیلنجز سے نمٹاجاسکے۔
ترجمان نے بتایا کہ بجلی کے 40 فیصد اضافہ کی بڑی وجوہات میں گرمیوں کے موسم میں ائیر کنڈیشنر ز کا بہت زیادہ استعمال ، گھریلو صارفین کا بجلی کے ہیٹر ز کو کھانا پکانے کے لیے استعمال کرنا اور غیر ضروری لائیٹنگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: بجلی کے استعمال میں اضافہ، محکمہ برقیات کا انتباہ جاری
محکمہ کی جانب سے متعدد بار عوام سے گزارش کی گئی کہ بجلی کے بے تحاشا اور غیر ضروری استعمال میں کمی کی جائے، لیکن کمی کے بجائے بجلی کے استعمال میں مسلسل اضافہ کارجحان دیکھا گیا ہے جس کے باعث الیکٹرک نیٹ ورک شدید متاثر ہو رہا ہے،جس سے ٹرانسفارمر اور فیلڈز میں Fault کے علاوہ گریڈ سٹیشن پر بھی شدید دباؤ آ رہا ہے، جس بناء پر متعلقہ DISCOS کو مجبوراً لوڈ شیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔
ترجمان نے عوام الناس سے اپیل کی وہ بحیثیت ذمہ دار شہری بجلی کے غیر قانونی اور غیر ضروری استعمال کو ختم کرنے میں محکمہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ہر صارف کو بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکے۔
اس طرح بجلی کے بلات کی بروقت ادائیگی اور چوری کی روک تھام کے لیے محکمہ کا ساتھ دیں۔ کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ دفتر شکایات سے رابطہ کریں۔




