اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی تحقیقاتی اداروں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جی الیون کچہری میں ہونیوالے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔ واقعے سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آورکا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ کچھ عرصے سے وہاں ہی رہائش پذیرتھا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آورجمعہ کے روزاسلام آباد پہنچا، جہاں اس نے پیرودھائی کے علاقے میں قیام کیا، حملہ آورنے پیرودھائی سے موٹرسائیکل نمبر BCB-2564 پرجی الیون کچہری کا رخ کیا۔
تحقیقات میں مزید بتایا گیا ہے کہ حملہ آورنے خود کو چادرسے ڈھانپ رکھا تھا تاکہ شناخت سے بچ سکے ۔رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ حملہ آورنے جی الیون کچہری کے داخلی راستے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں جانی ومالی نقصان ہوا۔
تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے جبکہ موٹرسائیکل کے رجسٹریشن ریکارڈ اوررابطوں کے سراغ کیلئے جدید فرنزک طریقہ کاراختیار کیا جا رہا ہے، حتمی رپورٹ متعلقہ اداروں کوجلد پیش کی جائے گی۔
دھماکے کے بعد کچہری کی عمارت خالی کرالی گئی ہے۔ وکلاء ججز اور سائلین کو کچہری سے بھیج دیا گیا ہے جبکہ جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے میں موجود شہریوں اور وکلاء کو نکال دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ججز کو بھی روانہ کردیا گیا ہے، کچہری میں عدالتی وقت ختم کر دیا گیا ہے جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد بھی کچہری کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ دھماکے میں 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک گاڑی پولیس کی تھی جبکہ 2 پرائیویٹ گاڑیاں ہیں۔
دھماکے کے کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے: اسپتال ذرائع
اسپتال ذرائع کے مطابق پمز اسپتال منتقل کیے گئے دھماکے کے کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
ترجمان پمز اسپتال ڈاکٹر مبشر ڈاہا نے کہا ہے کہ پمز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ ہے، دھماکے میں 12 افراد شہید ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر مبشر ڈاہا کا کہنا ہے کہ دھماکے میں زخمیوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے، دھماکے میں زخمیوں کی طبی امداد جاری ہے۔




