دہلی دھماکہ ، 7 منٹ میں “را” کی پاکستان پرالزام تراشیاں شروع

پیر کی شام دہلی کے قلعے کے علاقے میں ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات میں یہ دھماکہ سی این جی سلنڈر پھٹنے کے سبب ہوا۔

بھارتی سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے ابتدائی طور پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا، تاہم معتبر نیوز پلیٹ فارم ری پبلک نے مختلف ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ فالز فلیگ یا کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ حادثاتی دھماکہ تھا۔

واقعے کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور ہنگامی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد میں مصروف ہیں۔

دہلی کے قریب ایک گاڑی میں دھماکے کی ابتدائی خبروں کے فوراً بعد بھارتی سوشل میڈیا پر کچھ اکاؤنٹس نے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی

دہلی میں دھماکہ ہوئے سات منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ “ را ”نے پاکستان پر الزامات لگانا شروع کردئیے” را ”سے منسلک ان اکائونٹس نے بغیر کسی شواہد کےپاکستان مخالف بیانیہ پھیلایاجو واضح طور پر جھوٹا پراپیگنڈا ہے۔

نئی دہلی کے لا ل قلعہ کے قریب ایک پارکڈ گاڑی میں دھماکے کے فوراً بعد بھارتی سوشل میڈیا پر کچھ مخصوص اکاؤنٹس نے واقعے کو پاکستان سے منسلک کرنے کی مہم شروع کر دی۔

بابا بنارس اورگلوبل ہندو اسی نوعیت کے دیگر اکاؤنٹس نے ابتدائی مناظر اور ٹی وی چینلز کی اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے پوسٹس کیں جن میں بغیر کسی تصدیق کے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کی گئی۔

ان اکاؤنٹس کی پوسٹس میں یہ رجحان نمایاں رہا کہ دھماکے کی ابتدائی ویڈیوز سامنے آتے ہی فوراً پاکستان مخالف دعوے جوڑ د ئیے گئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نئی دہلی دھماکے،بھارتی ہینڈلرز کی پاکستان کیخلاف ہرزا سرائی شروع

ساتھ ہی کچھ پوسٹس میں پاکستانی اداروں اور شخصیات کے نام لے کر الزامات عائد کیے گئے حالانکہ اس حوالے سے نہ کوئی سرکاری بیان موجود تھا اور نہ ہی کسی تحقیقاتی ادارے نے ایسی کسی بات کی تصدیق کی تھی۔

اس کے باوجود واقعے کو براہِ راست “پاکستان” سے منسوب کرنے کی کوشش جاری رہی ابھی تک بھارتی پولیس، تحقیقاتی اداروں یا حکومتی سطح پر ایسا کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا جو دھماکے کے پیچھے پاکستان کے کسی کردار کی نشاندہی کرتا ہو۔

واقعے کی وجوہات جاننے کیلئے تفتیش جاری ہے ور حتمی نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا اس صورتحال میں سوشل میڈیا پر چند اکاؤنٹس کی جانب سے فوری اور غیر مصدقہ دعوے سامنے آنے کو بعض حلقے واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں

خصوصاً اس لئے کہ سارا بیانیہ ابتدائی مگر غیرمعلوماتی پوسٹس کے ذریعے تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی، دہلی دھماکے کے حقیقی محرکات واضح نہیں ہیںاور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے مصدقہ معلومات کا درجہ نہیں رکھتے۔

Scroll to Top