نیویارک (کشمیر ڈیجیٹل)ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ غزہ میں ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس قائم کرنے کی منظوری دی جائے جو کم از کم دو سال کیلئے تعینات رہے گی۔
امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس کے مطابق، امریکہ نے یو این ایس سی کے رکن ممالک کو ایک ڈرافٹ قرارداد ارسال کی ہے جس میں فورس کے اختیارات، ذمہ داریاں اور قیام کی تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ فورس غزہ بورڈ آف پیس کے مشورے سے تشکیل دی جائے گی، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
ڈرافٹ کے مطابق، فورس کو غزہ کی سرحدی سکیورٹی، عام شہریوں اور امدادی راہداریوں کے تحفظ، فلسطینی پولیس کی تربیت، اور علاقے کو غیر عسکری بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
فورس کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ISF ایک نفاذی فورس ہوگی، امن مشن نہیں۔ اس کا مقصد غزہ میں عبوری سیکیورٹی فراہم کرنا ہے تاکہ اسرائیل بتدریج علاقے سے انخلا کرے اور فلسطینی اتھارٹی اصلاحات کے بعد انتظام سنبھال سکے۔
قرارداد میں تجویز کیا گیا ہے کہ غزہ کی سول انتظامیہ ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ذریعے چلائی جائے گی، جبکہ انسانی امداد اقوام متحدہ، ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
امریکی عہدیدار کے مطابق یہ مسودہ چند دنوں میں سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان مذاکرات کی بنیاد بنے گا، تاکہ آئندہ ہفتوں میں اس پر ووٹنگ ہو سکے اور جنوری تک غزہ میں پہلی فوجی دستے کی تعیناتی کی جا سکے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ فورس کئی ممالک کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہو گی اور اس کا قیام غزہ کے “بورڈ آف پیس” سے مشاورت کے ساتھ کیا جائے گا، بورڈ آف پیس کم از کم 2027 کے آخر تک برقرار رہے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چارسدہ میں جے یو آئی رہنما حافظ عبدالسلام عارف فائرنگ سے شہید




