طلباء احتجاج ! میرپور بورڈ نے E-Markingنظام کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کر دیا

آزاد جموں و کشمیر انٹرمیڈیٹ و ثانوی تعلیمی بورڈ میرپور نے بالآخر طلباء کے احتجاج کے بعد E-Marking کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ترجمان بورڈ کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بے بنیاد اور خلافِ حقائق خبروں کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ امتحانات انٹرمیڈیٹ فرسٹ اینول 2025 پارٹ اول کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں، بورڈ نے فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، انگریزی اور کمپیوٹر سائنس جیسے اہم مضامین میں E-Marking کے عمل کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت مارک شدہ جوابی کاپیوں کی مکرر پڑتال (Re-Checking) کی جائے گی تاکہ شفافیت، درستگی اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

کنٹرولر امتحانات پروفیسر مسعود چودھری کے مطابق، اس حوالے سے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کو باضابطہ تحریک ارسال کر دی گئی ہے۔ تحریک کے مطابق تینوں ڈویژنز — مظفرآباد، میرپور اور راولاکوٹ — کے ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میرپور بورڈ کے نتائج کیخلاف طلبہ کا چارٹر آف ڈیمانڈ، علی شمریز کی مکمل حمایت

ہر مضمون کے لیے ایک تجربہ کار اور قابل پروفیسر کمیٹی کا حصہ ہوگا، جو E-Marking کے معیار، شفافیت اور کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ کرے گا۔ کمیٹی تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنی سفارشات تیار کرے گی اور ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ جمع کروائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: میرپور بورڈ کی نااہلی، پیپروں کی پہلی بار ای چیکنگ ،طلباءکا مستقبل مخدوش

کنٹرولر امتحانات نے واضح کیا کہ شفافیت، میرٹ اور طلباء کے اعتماد کی بحالی بورڈ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ E-Marking نظام کا مقصد جدیدیت کے ساتھ شفافیت کا فروغ ہے، تاہم طلباء کے جائز تحفظات کو مکمل سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔

آخر میں، تعلیمی بورڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اور بے بنیاد سوشل میڈیا خبروں پر یقین نہ کیا جائے، اور صرف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ مستند اعلانات ہی پر انحصار کیا جائے۔

Scroll to Top