مظفرآباد: میرپور بورڈ کے حالیہ بوگس رزلٹ کے خلاف طلبہ کے تمام تر مطالبات کو معروف طالبعلم رہنما علی شمریز نے جائز قرار دیتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ علی شمریز نے کہا کہ یہی طلبہ اس قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں، اس لیے ان کے تمام معاملات کو فی الفور حل کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوہرے تعلیمی معیار نے آزاد کشمیر کے باصلاحیت نوجوانوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک سال قبل ٹاپ کرنے والے طلبہ کے سپلیمنٹری کیسے آ سکتے ہیں؟ ان کے مطابق مہذب معاشروں میں ایسی عدم دلچسپی اور غفلت پر متعلقہ افسران و اہلکاران کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، مگر آزاد کشمیر میں قانون شخصیات کے گرد گھومتا ہے، اس لیے یہاں کسی قسم کی کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔
علی شمریز نے زور دیا کہ بچوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر ہر صورت عمل درآمد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: اسلامی جمعیت طلبہ کا 13 نومبر کو احتجاجی کنونشن کا اعلان
گیارویں جماعت کے طلبہ نے میرپور بورڈ کے نتائج میں مبینہ ناانصافیوں کے خلاف اپنے مطالبات پیش کیے ہیں جن میں پیپرز کی فوری اور شفاف ری چیکنگ، امپروومنٹ فیس میں کمی، E-Sheet اور E-Marking سسٹم میں اصلاح، اور چیکنگ عملے کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
طلبہ نے جہلم ویلی کے طالبعلم حسیب ولد صابر کے اہلِ خانہ کو انصاف اور معاوضے کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مارکنگ عملے کو معطل کر کے تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے، اور کمپیوٹر چیکنگ سسٹم میں مکمل شفافیت لائی جائے۔
چارٹر آف ڈیمانڈ میں SLO-Based پیپرز کی SLO-Based مارکنگ، 2026 میں بارہویں جماعت کے پیپرز کو اسی پیٹرن پر لینے، چیئرمین بورڈ کو نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے، فیل طلبہ کی فیس معافی، اور مظفرآباد میں علیحدہ بورڈ کے قیام کے مطالبات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرپور بورڈ کی نااہلی، پیپروں کی پہلی بار ای چیکنگ ،طلباءکا مستقبل مخدوش
طلبہ نے واضح کیا ہے کہ یہ مطالبات آئینی، تعلیمی اور انسانی حقوق کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ اگر ان پر فوری عمل نہ کیا گیا تو وہ اپنے پُرامن احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔




