وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں تاخیر، وجوہات سامنے آگئیں

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے جس کی وجوہات سیاسی ذرائع نے واضح کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائدین نے اب تک متبادل قائد ایوان کی نامزدگی نہیں کی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی کے بعد ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جائے گی۔ اس عمل میں بلاول بھٹو کی مشاورت اور حتمی منظوری کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ مسلم لیگ (ن) کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کا تقریباً 80 فیصد ترقیاتی بجٹ ابھی تک خرچ نہیں ہوا، جس کے باعث فوری تبدیلی کی صورت میں ترقیاتی منصوبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جامعہ کشمیر مظفرآباد طلبہ کا احتجاج، چہلہ کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل

مزید بتایا گیا ہے کہ موجودہ اسمبلی کی مدت جولائی 2026 میں مکمل ہو رہی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ ہے کہ انتخابات مارچ 2026 میں منعقد کیے جائیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا تو جنوری 2026 میں نئی حکومت اختیارات سے محروم ہو جائے گی۔ اس صورت میں دسمبر اور جنوری کے دوران پیپلز پارٹی اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے سے قاصر رہے گی۔

ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر اصرار کر رہی ہے، جس کے باعث دونوں جماعتوں کے درمیان ڈیڈلاک پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد ہفتے میں پیش کردی جائیگی، میاں وحید

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اصولی اتفاق کر چکی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی صورت حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔

Scroll to Top