خواجہ آصف

سرحدی خلاف ورزی ہوئی تو افغانستان کے اندر کارروائی کرنی پڑی کرینگے، خواجہ آصف

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم بھی حملہ کریں گے، افغانستان کے اندر بھی جا کر جواب دینا پڑا تو دیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سےگفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان سے کل شام کو معاملہ مکمل ہوا ہے، ثالثوں پربھی یہ چیزعیاں ہوگئی کہ کابل کی نیت کیا ہے،کابل کی نیت میں فتور سب پر عیاں ہوگیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب دوا تو کوئی نہیں ہے، دعا ہی کی جاسکتی ہے، اندیشہ ہےکہ طالبان افغانستان کو ماضی میں دھکیل رہے ہیں، افغانستان ریاست کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتا، طالبان ریاست کے تشخص کے عادی بھی نہیں اور نہ ہی سمجھ ہے،

کابل حکومت میں کوئی ایسا موجود نہیں جو ریاست کی وضاحت کرے۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے

ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی تو ہم بھی حملہ کریں گے، خلاف ورزی پر ہمیں افغانستان کے اندر بھی جا کر جواب دینا پڑا تو دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کابل نے مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے، اس طرح ہے تو پھر اس طرح سہی، افغانستان سب چیزوں کو مانتا ہے لیکن تحریری طورپر ضمانت دینےکو تیار نہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ طالبان اپنی غصبانہ حکمرانی کو برقرار رکھنے اور انہیں سہارا دینے والی جنگی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے اندھا دھند طور پر افغانستان کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیل رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اپنی ذاتی حدود اور جنگی نعروں کے خالی پن کو بخوبی جانتے ہوئے بھی وہ اپنے بگڑتے ہوئے ظاہری روپ کو بچانے کے لیے جنگی ڈھول بجا رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر افغان طالبان حکومت دیوانگی کی حد تک دوبارہ افغانستان اور اس کے معصوم لوگوں کو تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے تو جو ہونا ہے وہ ہو‘۔

اپنے پیغام میں وزیر دفاع نے کہا کہ جہاں تک ‘سلطنتوں کی قبروں’ کے بیانیے کا تعلق ہے، پاکستان یقینی طور پر خود کوئی سلطنت ہونے کا دعویدار نہیں ہے، تاہم افغانستان کبھی سلطنتوں کی قبرستان نہیں رہا، درحقیقت اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک قبرستان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے اندر جنگی شوقین، جن کے مفادات اس خطے میں عدم استحکام کے تسلسل میں منسلک ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ شاید انہوں نے ہمارے عزم اور حوصلے کا غلط اندازہ لگا لیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم انوارالحق کی زیرصدارت اہم اجلاس، عوامی خدمت جاری رکھنے کا عزم

Scroll to Top