باغ( کشمیر ڈیجیٹل )ایس ایس پی باغ ریاض مغل اور ڈپٹی کمشنر باغ راجہ محمد صداقت خان نے کہا ہے کہ باغ پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندھے قتل میں ملوث سفاک قاتل کو جدید سائنسی طریقہ کار اپناتے ہوئے ٹریس کر کے راولپنڈی سے گرفتار کرلیا۔
ارسلان ظریف نامی سفاک قاتل نے خاندانی دشمنی کی بنیاد پر مقتول نوید عزیز کو ویرانے میں لے جا کر قتل کیا اور نعش کو گورنمنٹ سکول دھڑے کے احاطے میں پھینک کر خود موقع واردات سے فرار ہوگیا۔
باغ میں نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کی اہلیہ کی موت کی تحقیقات جاری ہیں بظاہر ثناء رفاقت کی موت خودکشی معلوم ہوتی ہے مگر اسکے خاوند ڈاکٹر منظور کو گرفتار کر کے ورثاء کے تحفظات کے مطابق تفتیش جاری ہے
تاہم ڈاکٹر کے گھر سے تلاشی کے دوران مختلف اقسام کا اسلحہ بھی برآمد ہوا جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈی ایس پی باغ سردار طارق، ایس ایچ او سٹی تھانہ باغ امجد ساقی، سی آئی اے انسپکٹر رفاقت عباسی اور چوکی آفیسر ریڑھ سب انسپکٹر ارباب خان بھی موجود تھے۔
دھڑے قتل کیس کے حوالے سے اب تک کی تحقیقات سے متعلق سوال کے جواب میں ایس ایس پی باغ سردار ریاض مغل نے کہا کہ قاتل کے مطابق مقتول نوید عزیز کیساتھ ارسلان کی بہن کی شادی اور پھر علیحدگی ہو گئی تھی جس کی بنا پر قاتل کے مطابق اس نے جذبات میں آ کر نوید عزیز کو بہلا پھسلا کر ویرانے میں لے جا کر گولیاں ماریں اور قتل کر کے نعش سکول کے احاطے میں پھینک دی
قاتل ارسلان ظریف نے پولیس کو بتایا کہ ہم نے نوید عزیز کو کسی جگہ ڈکیتی کرنے کی غرض سے بلایا اس واردات میں ہمارے ساتھ ایک پٹھان نے بھی شامل ہونا تھا جو مقررہ وقت پر نہیں پہنچ سکا
اس دوران وقت گزارنے کیلئے ہم نے خالی سکول کی عمارت کا انتخاب کیا اور وہاں ہم رات دیر تک گپ شپ کرتے رہے اور ڈکیتی کی پلاننگ کرتے رہے اس دوران نصف شب میں نے نوید عزیز کو گولیاں مار کر اسکی جان لے لی۔۔
پولیس کے مطابق مقتول کے جسم میں سات سے آٹھ گولیوں کے نشانات موجود ہیں تا ہم پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد حتمی رائے قائم کی جا سکے گی کہ قاتل نے مقتول کے جسم میں کتنی گولیاں ماریں۔۔
ڈپٹی کمشنر باغ نے چوبیس گھنٹوں کے اندر قاتل کو ٹریس کر کے راولپنڈی سے گرفتار کرنے پر پولیس پارٹی کو شاباش دی۔۔
اس موقع پر مقامی افراد اور مقتول کے ورثاء بھی موجود تھے جنہوں نے پولیس کی کارکردگی اور اب تک کی تفتیش پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں :ہائیکورٹ اسٹیبلشمنٹ کی 44 تقرریاں کالعدم ، سلیکشن کمیٹی کیخلاف کارروائی کا حکم




