سردار مسعود

بھارت نئی مہم جوئی کی کوشش کرسکتا، پاکستان کو دونوں سرحدوں پر چوکنا رہنا چاہئے،مسعود خان

اسلام آباد: امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور مشرقی اور مغربی محاذوں پر اپنے سکیورٹی آلات کو پھیلانے کے لیے افغانستان کو پراکسی میدان جنگ کے طورپراستعمال کر رہا ہے۔

سردار مسعود خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پا کستان نے کئی دہائیوں سے کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، لیکن ہماری مغربی سرحد کے اس پار سے نئے خطرات پیدا ہوئے ہیں جس میں دشمن کی خفیہ ایجنسیاں اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل اتحاد اورقومی عزم کا مظہر اور تذویراتی طورپر واضح ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد پاکستان سرحد پار دہشت گردی کا بنیادی ہدف بن گیا، افغان طالبان کی جانب سے بارہا یقین دہانی کے باوجود کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

پاکستان پر حملوں میں اضافہ اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہاکہ شواہد بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کو ظاہر کرتے ہیں جوافغانستان میں پراکسیز کے ذریعے کام کررہی ہیں۔

مسعود خان نے کہاکہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارت کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تنازعہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ،بھارت کی دوغلی پالیسی ناکام ہوچکی، مسعود خان

انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پر انتہا پسند گروپوں کے ساتھ بھارت کی ملی بھگت ایک وسیع تر ہائبرڈ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مشرق سے روایتی فوجی دبائو کے ساتھ ساتھ مغرب سے حملے کرانا ہے تاکہ پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

انہوں نے ممکنہ بھارتی مہم جوئی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت مئی 2025کے تنازعے میں اپنی ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی ساکھ کو بحال کرانے کے لیے ایک اور مہم جوئی کی کوشش کر سکتا ہے۔ پاکستان کو دونوں سرحدوں پر چوکنا رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ ہے۔ پاکستان مضبوطی کے ساتھ اپنی سفارت کاری کو جاری رکھے گا اوراس بات کو یقینی بنائے گاکہ کوئی بھی ریاستی یا غیر ریاستی عنصر ہمارے قومی اتحاد کو خطرے میں نہ ڈال سکے۔

Scroll to Top