افغان طالبان کی عبوری حکومت نے پاکستان سے مذاکرات کے لیے قطری حکومت سے رابطہ کیا ہے،طالبان رجیم نے قطر سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرے ۔
افغان طالبان کی درخواست پر قطر نے حکومتِ پاکستان سے رابطہ کیا اور ان کا پیغام اسلام آباد تک پہنچایا۔
پاکستان نے برادر ملک قطر کی ثالثی کی پیشکش کا احترام کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے،ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے ۔
پاکستان نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر ٹی ٹی پی یا دیگر خوارج کی جانب سے کسی بھی دہشت گردی کی صورت میں فوری طور پر اور بھرپور جواب دیا جائے گا ۔
ذرائع کے مطابق افغان میڈیا نے مذاکرات کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وفد دوحہ پہنچ چکا ہےتاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی وفد آج قطر روانہ ہوگا ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی وفد کی دوحہ میں موجودگی کی خبریں بے بنیاد ہیں، سکیورٹی ذرائع کی وضاحت




