آزاد کشمیر : سیاسی اشرافیہ کی منافقت بے نقاب:اسمبلی میں کشمیر کمیٹی کا قیام، کشمیر بہانہ ،بیرون ممالک کےدورے اصل مقصد

مظفرآباد(ذوالفقار علی،کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم)

دہائیوں کی خاموشی کے بعد آزاد جموں و کشمیرکی قانون ساز اسمبلی نے اچانک کشمیر پر ایک ’’خصوصی کمیٹی‘‘ تشکیل دے دی ہے۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ یہ اقدام کشمیری عوام کی حالتِ زار کی فکر کے بجائے ایک سیاسی تماشہ معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے طنزیہ طور پر اسے ’’فارن ٹرپس کمیٹی‘‘ کا نام دیا ہے کیوں ان کے مطابق اس کا اصل مقصد آزاد کشمیر اسمبلی کے اراکین کے لیے بیرونِ ملک دوروں کا جواز فراہم کرنا ہے۔
53 کے ایوان میں 19 ووٹوں سے منتخب ہونے والے سپیکر اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جبکہ سات اراکین میں دو سابق وزرائے اعظم، قائد حزب اختلاف، وزرا اور اراکین شامل ہیں۔جو اس کمیٹی مین شامل ہیں ان میں سے بعض دہائیوں سے اس اسمبلی میں موجود ہیں۔

اس کمیٹی کے قیام کا اعلان 18 اگست 2025 کو اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن میں کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمیٹی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے دہلی کے ماتحت کرنے کی چھ سال بعد بنائی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کمیٹی 5 اگست 2025 کے اجلاس میں اس مقصد کے لیے تشکیل دی گئی کہ ’’مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال اور کشمیر ایشو سے متعلق حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔‘‘ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی انڈیا کی جانب سے 05 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے منافی مقبوضہ جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لے گی ۔

اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں ہا گیا ہے کہ” یہ کمیٹی مسلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے حصول اور مسلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کے کوششوں کو مزید موثر اور فعال بنانے کے لیے سفارشات مرتب کری گی اور جلد از اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی ۔” اس میں یہ بھی کہا گیا ہے خصوصی کمیٹی اس ضمن میں آل پارٹیز حریت کانفرنس ( اے پی ایچ سی) کے رہنماؤں اور وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سے مشاورت کرکے اپنی سفارشات حکومت پاکستان کو پیش کری گی۔
لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ

77 سال بعد اس کمیٹی کا قیام بذاتِ خود ایک واضح ثبوت ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کس قدر بے حس ہے۔ ان کے مطابق اس اشرافیہ کے دعوے محض کھوکھلے او بے معنی ہیں، جن میں نہ کوئی سنجیدگی ہے اور نہ ہی اب ان کے پاس ایسا کوئی جواز یا اخلاقی ساکھ باقی بچی ہے کہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ وہ کشمیر کے ترجمان ہیں، کیونکہ وہ کشمیر کے دونوں طرف کے عوام کا اعتماد مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کشمیر کے مسئلے کو محض ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

نصف صدی کی خاموشی
ذرا غور کیجیے: 1974 میں اسمبلی کے قیام کے 51 برس تک اسمبلی نے کبھی بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ نہیں لیا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پر کوئی سفارشات تیار کیں۔
1988 میں جب بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو صورتِ حال تیزی سے سنگین ہو گئی۔بھارت نے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا اور تقریباً دس لاکھ فوجی تعینات کیے۔

خطے نے دن رات کرفیو، طویل محاصرے، اور سرچ آپریشنز — جنہیں ’’کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز‘‘ کہا جاتا ہے — دیکھے۔ گھروں پر حملے، قتلِ عام، اجتماعی زیادتیاں، اجتماعی گمشدگیاں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، اور پیلٹ گنز سے آنکھوں کی بینائی چھیننے کے واقعات سامنے آئے۔ لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی اشرافیہ نے اسمبلی میں کمیٹی بنانے کی ضرورت محسوس نہ کی۔

2008 اور 2010 میں وادی کشمیر میں بڑے عوامی مظاہروں کے دوران بھی آزاد کشمیر کی اسمبلی خاموش رہی۔وادی کشمیر میں اس وقت صورت حال مزید سنگین ہو گئی جب 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج نے برہان وان کو ماروائے عدالت قتل کیا۔ اس کے بعد وادی کشمیر میں 120 دن طویل محاصرہ اور بھارت کی بدنامِ زمانہ پیلٹ وار شروع ہوئی۔

صرف پہلے 34 دنوں میں تقریباً 10 ہزار افراد زخمی، 17 ہلاک، اور 1000 افراد پیلٹ کہ وجہ سے مکمل یا جزوی طور پر نابینا ہوئے۔ اس صورت حال پر پوری دنیا چیخ اٹھی لیکن اس سب کے باوجود آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر، اس کی اسمبلی اور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے مکمل خاموشی رہی۔

نومبر 2016 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُس وقت کے وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ پیلٹ متاثرین کے علاج کے لیے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فنڈ کبھی قائم ہی نہیں ہوا تھا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کی خاموشی بدستور جاری رہی۔

4 اگست 2019 کو رات 10 بجے کشمیر پر موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ گلیوں اور سڑکوں پر صرف بھارتی فوجیوں کے جوتوں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ سارا کشمیر ایک محاصرے میں تھا۔ پہلے سے موجود 7 لاکھ فوجیوں کے ساتھ مزید 2 لاکھ تعینات کر دیے گئے۔ یوں کشمیر کی ڈیڑھ کروڑ آبادی گھروں میں محصور ہو گئی۔ انٹرنیٹ بند اور ٹیلیفوں بند ، صحافیوں کی نقل و حرکت محدود، اور ہر فرد — نومولود سے لے کر سو سالہ بزرگ تک — یرغمال بن گیا۔ گھروں کے باہر مسلح فوجی کھڑے تھے جو باہر نکلنے والے کسی بھی شخص کو گولی مارنے کو تیار تھے۔

05 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 منسوخ کر دیا، جو کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت تھا، اور آرٹیکل 35-اے ختم کر دیا، جس کے تحت کوئی غیر کشمیری کشمیر میں زمیں نہیں خرید سکتا تھا۔ اس اقدام نے ڈیموگرافک تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ بھارت نے جموں و کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر کے دہلی کے براہِ راست کنٹرول میں دے دیا۔ اگلے ہی دنوں میں بھارتی فوج نے رات گئے گھروں پر حملے کیے اور 40 ہزار کشمیری نوجوانوں کو اغوا کر لیا۔

15 اگست 2019 کو امریکی تنظیم ’’جینوسائیڈ واچ‘‘ نے جینوسائیڈ الرٹ جاری کیا کہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ منڈلا رہا تھا اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سی اپیل کی کہ اس ممکنہ نسل کشی کو روکا جائے۔ لیکن میڈیا پر قدغن اور انٹرنیٹ اور فون بند ہونے کے باعث خبریں باہر نہیں آرہی تھیں ۔

اگر بھارتی فوجی ٹینک یا ہیلی کاپٹر استعمال بھی کر رہے ہوتے تو دنیا کو علم نہیں ہوسکتا تھا۔ عالمی سطح پر تشویش بڑھی۔ حکومتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی کارکنوں نے مذمت کی۔ لیکن آزاد کشمیر کے سیاسی اشرافیہ مکمل طور پر خاموش رہی۔اسمبلی میں کمیٹی بنانا تو دور کی بات۔ آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ نے اپنی خاموشی کا جواز یہ دیا گیا کہ وہ لوکل اتھارٹھی ہیں اور وادی کشمیر کے محصور لوگوں کے لیے بات نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ اس وقت کہا گیا جب وادی کی چھوٹی سے آبادی کو نسل کشی کا خطرہ تھا۔

یہ خاموشی مئی 2024 تک برقرار رہی۔ مئی 2024 میں آزاد کشمیر کے عوام اپنے حقوق کے لیے خطے کی سیاسی و انتظامہ اشرافیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔اس احتجاج کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ نے ایک بار پھر کشمیر پر بیانات دینا شروع کیے جس کا مقصد تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے خلاف عوامی غم وغصے سی توجہ ہٹانا تھا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اسمبلی میں کمیٹی کی تشکیل بھی عوامی غم و غصے سے توجہ ہٹانے، سیاسی و ذاتی مفادات کے تحفظ اور بیرونی دوروں کے لیے راہ ہموار کرنے کی ایک لاحاصل کوشش ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں وادی کشمیر کے صحافیوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں، ماہرین، اساتذہ و محققین اور مورخین نے 2019 سے پہلے اور اس کے بعد کشمیر پر درجنوں کتبابیں، ہزاروں مضامین، تحقیقی مقالے اور رپورٹس شایع کرچکے ہیں۔ عالمی میڈیا نے دستاویزی فلمیں اور رپورٹس شائع یا نشر کیں۔

اس کے علاوہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی درجنوں رپورٹس شائع کیں’ اقوامِ متحدہ نے 2018 اور 2019 میں دو رپورٹس شائع کیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی اسمبلی وادی کشمیر کی صورت حال کا کیا جائزہ لے گی جسے لائن آف کنٹرول پر بھارتی مظالم کا ہی علم نہیں، تو پھر وادیٔ کشمیر کے بارے میں انہیں کیا علم ہوگا؟
وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا پاکستان خود اس صورتِ حال سے بے خبر ہے، جب اس نے پہلے ہی کشمیر پر ڈوزیئر شائع کر رکھا ہے؟
آزاد کشمیر اسمبلی کی 80 اجلاس، عمل صفر

آزاد کشمیر کی اسمبلی کی دستاویزات کے مطابق جولائی 2016 سے اب تک آزاد کشمیر اسمبلی کے 80 سے زائد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں — اور تقریباً سب آئینی ضرورت کے تحت ہوئے ۔ ایک بھی اجلاس مسئلہ کشمیر پر بحث کے لیے مختص نہیں کیا گیا۔ البتہ آزاد کشمیر اسمبلی کے سال میں دو خصوصی اجلاس کشمیر میں ہوتے ہیں: ایک 5 فروری کو (یومِ یکجہتی کشمیر) اور دوسرا 5 اگست کو۔
ناقدین کہتے ہیں کہ وہ بھی اس لیے کہ پاکستان کے وزیر اعظم ان میں شریک ہوتے ہیں اور انہی مواقع پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی اشرافیہ خود کو پورے جموں و کشمیر کا نمائندہ پیش کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک گمراہ کن اور غیرقانونی دعوی ہے۔ ان رسمی اجتماعات کے علاوہ اسمبلی نے کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کیا۔
آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کی اصل توجہ اپنی مراعات پر رہی۔
دستاویزات کے مطابق 2017 سے 2023 تک مختلف اوقات میں آزاد کشمیر اسمبلی نے مجموعی طور پر آٹھ مرتبہ وزیرِاعظم، صدر، اسپیکر، سابق اسپیکر، سابق وزرائے اعظم، سابق صدور، وزراء اور اراکینِ اسمبلی کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ دستاویزات کے مطابق 2016 سے 2023 تک آزاد کشمیر کی حکومتوں نے صرف لگژری گاڑیوں پر 2 ارب روپے خرچ ہوئے۔ یہ اس وقت ہو رہا تھا جب لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بھارتی فوج کے ہاتھوں شہری قتل، زخمی اور معذور ہو رہے تھے۔

بھولی بسری لائن آف کنٹرول
1990 سے 2021 تک بھارت نے آزاد کشمیر کی شہری آبادی کے خلاف مارٹر، کلسٹر بم، اسنائپر رائفلیں اور آرٹلری استعمال کیے۔ انڈیا ی فائرنگ کے نتجے میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، جائیدادیں تباہ ہوئیں، اسکول، اسپتال اور روزگار تباہ ہوگئے۔

لیکن آزاد کشمیر کی حکومت، اسمبلی یا کسی اور سرکاری ادارے نے کبھی بھی ان حملوں کو سائنسی بنیادوں پر دستاویزی شکل میں جمع نہیں کیا تاکہ بھارت کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
حکومتی ریکارڈ صرف ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کا ذکر ہے اور متاثرین کو محض نمبروں کی طرح درج کیا گیا۔ 1990 سے 1997 تک کے شہید ہونے والے شہریوں کا ریکارڈ بھی دستیاب نہیں کیونکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ ’’گم‘‘ ہو گیا۔
1990 سے 2021 تک لائں آف کنٹرول پر آزاد کشمیر کی شہری آبادی پر جاری رہنے والی فائرنگ کے دوران شاید ہی کوئی آزاد کشمیر کا سیا متاثرہ خاندانوں کو تسلی دینے نہیں گیا ہو۔ وہ اسلام آباد میں بیٹھے رہے، جبکہ ایل او سی پر لوگ مر رہے تھے۔
حتیٰ کہ نام نہاد ’’لبریشن سیل‘‘، جو کشمیر کاز کے لیے بنایا گیا تھا، محض تنخواہیں لینے تک محدود رہا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ جب سے کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی و انتظامی اشرافیہ نے اپنی مراعات ، قیمیتی گاڑیوں ، کرپشن اور بیرونی دوروں کے لیے کشمیر کاز کو بہانے کے طور پر استعمال کیا۔ وزرائے اعظم، صدور، وزرا اور اسمبلی کے اراکین بار بار بیرونِ ملک جاتے رہے لیکن کشمیر کے بارے میں ایک بھی دستاویز یا رپورٹ ساتھ نہیں ہوتی تھی کیوں کہ یہ دورے مسلہ کشمیر کی خاطر نہیں ہوتے تھی بلکہ سیر سپاٹے کے لیے ہوتے تھے۔

کوئی مینڈیٹ نہیں، کوئی جواز نہیں
تجزیہ کار کہتے ہیں 2025 میں آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیر پر تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کا دو وجوہات کی بنیاد پر کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا کہنا ” اول، آزاد کشمیر کی اسمبلی نے ہمیشہ لائین آف کنٹرول کے دونوں جانب بھارتی مظالم کو مکمل طور پر نظرانداز کیا بھارتی تشدد کے متاثرین سے منہ موڑا۔ دوم، بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے مشورہ ہی نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین ان کے منتخب نمائندے نہیں۔ ان کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں۔ تاریخ کے بدترین لمحات میں ان کی خاموشی بھلائی نہیں گئی۔ بہت سے کشمیری ان نمائندوں کو موقع پرست، بے حس، خود غرض اور دہائیوں سے ظلم کے شریکِ جرم قرار دیتے ہیں۔
نادین کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیر پر کمیٹی کا قیام خطے کی سیاسی اشرافیہ کا مراعات بچانے، تنقید کو روکنے اور بیرون دوروں کے لیے آخری حربہ ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے،عمارتیں لرز گئیں

Scroll to Top