لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) دریائے راوی میں 2 لاکھ کیوسک ریلے نے قریبی علاقوں کو تباہی سے دوچار کردیا، شہری علاقے زیر آب آگئے۔
شرقپور میں سیلابی ریلے آبادی کے قریب پہنچ گئے جبکہ قادرپور ہیڈورکس کو بچانے کے لیے دریائے چناب کے دو حفاظتی بند اڑا دیے گئے۔
مسلسل بارشوں کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج بپھر گئے، پنجاب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر پاک فوج کی مدد طلب کرلی گئی۔
دریائے چناب میں ہیڈ خانکی پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ خانکی ہیڈ ورکس کی گنجائش 8 لاکھ کیوسک ہے اور شدید دباؤ سے اس کے ہائیڈرولک ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا اور دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق راوی میں 32 سال بعد بدترین صورتِ حال ہے اور مزید 45 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
قادرآباد بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب،10 لاکھ 77 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔۔!! pic.twitter.com/z1cBFmckQk
— Khurram Iqbal (@khurram143) August 27, 2025
اس وقت چناب میں خانکی پر اونچے درجے کا، راوی میں شاہدرہ اور ستلج میں سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے، بیراج کو بچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کی موجودگی میں حفاظتی بند توڑ دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رائٹ ڈاؤن اسٹریم بند میں بارودی مواد نصب کرکے شگاف ڈالا گیا، جس کے بعد منڈی بہاءالدین کی آبادیوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
دریائے راوی میں خطرناک صورتحال
دریائے راوی میں بڑھتے پانی کے باعث شاہدرہ اور موٹروے ٹو کے نشیبی علاقے خطرے کی زد میں ہیں۔ سول ڈیفنس نے الرٹ جاری کردیا اور سائرن بھی بجائے گئے، جبکہ ریسکیو 1122 اور پنجاب پولیس کے اہلکار دریا کنارے تعینات رہے۔ اسسٹنٹ کمشنر راوی سیدہ سنبل جاوید نے رات گئے علاقے کا دورہ کیا۔
🚨💥 بریکنگ نیوز 💥🚨
دریائے راوی پر بنایا گیا مادھوپور ڈیم 🏞️ شدید دباؤ برداشت نہ کرسکا، چار گیٹ ٹوٹ گئے 🚧
جب تک ڈیم کی مرمت نہیں ہوتی 🔧🛠️، دریائے راوی میں پانی کا ریلہ مسلسل پاکستان کی جانب آتا رہے گا 🌊⚠️صورتحال نہایت تشویشناک ‼️ pic.twitter.com/pzIqJ9F6WY
— PakWeather (@Pak_Weather) August 27, 2025
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع کو انتہائی بلند سیلابی خطرہ لاحق ہے، بھارت کی جانب سے ڈیموں کے کھولنے اور موسلادھار بارشوں نے دریاؤں کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
حکام کے مطابق صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے اور نشیبی علاقوں کو خالی کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں مزید موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔
’لاہور کے ڈوبنے کی افواہیں بے بنیاد ہیں‘
حکام کے مطابق شاہدرہ لاہور سے آج رات پانی کا بڑا ریلا گزرے گا اور مقدار 80 لاکھ کیوسک فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ کابینہ کمیٹی کے چیئرمین خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ بھارت نے پانی چھوڑنے سے قبل اطلاع نہیں دی تاہم تمام تیاریاں مکمل ہیں اور لاہور کے ڈوبنے کی افواہیں درست نہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جنیداکبر بھی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدے سے مستعفی




