تہران:ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے فی الحال کسی معاہدے تک پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے اور دونوں ممالک اس سے ابھی بہت دور ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی صورت میں امریکا کے حد سے زیادہ اور غیر منطقی مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے کھلوايا جائے تو اس کے لیے اسے پہلے ایران کی پیش کردہ شرائط کو پورا کرنا ہوگا، جس کے بعد ہی جوہری مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ممکن ہو سکے گا۔
ثالثوں کی کوششیں اور ایرانی موقف:
اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق بین الاقوامی ثالث ایران اور امریکا کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات کو کم کرنے اور کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم فی الوقت دونوں اطراف میں موقف کا فرق برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ ،امریکی اخبار کا دعویٰ
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔
امریکی حملوں کا بھرپور جواب دینے کا اعلان:
ایرانی عہدیدار نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا حملوں کی کوشش کی تو ایران اس کا سخت جواب دے گا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ممکنہ امریکی حملوں کی صورت میں ایران خطے اور اس سے باہر بھی بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔




