امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکان کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملوں سے 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں: امریکی اخبار کا بڑا انکشاف
یہ کارروائی ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان کو کم قرار دیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ امریکی عہدیدار کے مطابق دفاعی نوعیت کے حملوں کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا ہے اور امریکا نے پچھلے ہفتوں کے دوران کئی خفیہ حملے کئے ہیں، رپورٹ کے مطابق حملے خفیہ رکھنے کا مقصدآپریشن کا تاثر پیدا ہونے سے روکنا ہے۔
اس سے قبل پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کئی ماہ سے کوئی لڑائی نہیں کر رہا۔
قبل ازیں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے خبر دی تھی کہ ایران کے جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم دھماکوں کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دیدیا
ایرانی حکام کی جانب سے دھماکوں کی نوعیت یا ممکنہ وجہ سے متعلق کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔




