اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل): راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے کشمیر ڈیجیٹل،آزاد ڈیجیٹل اور آزاد وٹیکنیکل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مصور عباسی اور ان کے اہلخانہ کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا پر خوف و ہراس پھیلانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ یونین نے واضح کیا ہے کہ اختلافِ رائے یا صحافتی تنقید کا جواب دھمکیوں اور دباؤ سے دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور آزادیٔ صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یونین کے صدر طارق عثمانی اور جنرل سیکریٹری رضوان غلزی نے اپنے بیانات میں کہا کہ تحقیقی رپورٹنگ یا سوال اٹھانے کی پاداش میں کسی صحافی یا اس کے بچوں اور اہل خانہ کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک، تشویشناک اور ناقابلِ برداشت اقدام ہے۔ انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں جمع کرائی گئی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی اور دھمکیوں میں ملوث سیاسی شخصیات اور کمپین اکاؤنٹس کے مبینہ کردار کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل آپریٹرز کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

صحافیوں کی زبان بندی اور ہراساں کرنے کی شدید مذمت:
نائب صدر محمد فیصل اعوان، جوویریہ صدیق، انفارمیشن سیکریٹری مدثر الیاس کیانی، فنانس سیکریٹری یاسر نذر اور جوائنٹ سیکریٹریز خالد ملک و عبدالوحید جنجوعہ نے اپنے مشترکہ و انفرادی بیانات میں زور دیا کہ صحافیوں کی زبان بندی کے لیے دھونس اور دھمکیوں کا استعمال بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کسی صحافتی رپورٹ پر اعتراض ہے تو اس کا جواب دلیل اور قانونی فورم پر دیا جائے نہ کہ اہل خانہ کو ہراساں کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر:ایف بی آر پورٹل پر سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی اجازت دے دی گئی
صحافتی رہنماؤں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے صرف بیانات کافی نہیں بلکہ حکومت کو عملی اقدامات اور مؤثر حفاظتی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ تمام میڈیا ورکرز اور ان کے اہلخانہ امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس اور تحفظ کا مطالبہ:
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیرِ اطلاعات اور وفاقی وزیرِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ یونین نے حکام سے متاثرہ سی ای او مظفر عباسی اور ان کے اہل خانہ کو فوری فول پروف تحفظ فراہم کرنے اور این سی سی آئی اے کو بلا تاخیر اور بلا امتیاز شفاف تحقیقات کی ہدایت جاری کرنے پر زور دیا ہے۔
آر آئی یو جے نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دھمکانے، ہراساں کرنے یا ان کی آواز دبانے کی ہر کوشش کے خلاف صحافی برادری اپنا آئینی، قانونی اور جمہوری کردار ادا کرتی رہے گی اور اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔




