سپریم کورٹ

گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین پر تشدد کے واقعات کو محض گھریلو یا نجی معاملہ سمجھنا بالکل درست نہیں ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے بیوی پر شدید تشدد کرنے اور اسے آگ لگانے کا الزام ثابت ہونے پر انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔   

جسٹس شاہد وحید کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی فوجداری مقدمے میں ملزم کی بریت محکمانہ کارروائی سے بریت کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کا کردار صرف دفتری فرائض اور ذمہ داریوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نجی زندگی اور ذاتی رویہ بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آسکتا ہے۔

خواتین کی عزت و وقار آئینی ذمہ داری:

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صفائی کے ساتھ یہ موقف پیش کیا کہ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین کے خلاف روا رکھے جانے والے تشدد کو نجی یا گھریلو معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے زور دیا کہ خواتین کی عزت، حُرمت اور وقار کا تحفظ ایک بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے ہر رشتہ احترام کا مستحق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوٹہ سسٹم کیس،آزاد کشمیرسپریم کورٹ، 19 اپیلوں کی سماعت 3نومبر مقرر

عدالتی فیصلے کے مطابق خواتین پر تشدد کے سنگین واقعات میں ملوث سرکاری ملازم نہ صرف عوامی سطح پر ادارے کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے، بلکہ اس کی اس قسم کی غیر قانونی حرکات سے متعلقہ ادارے اور ریاست کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

دفتر سے باہر سرزد ہونے والے جرائم کے اثرات:

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں مزید قرار دیا ہے کہ دفتر کے ماحول سے باہر سرزد ہونے والا جرم بھی سرکاری ملازمت پر مکمل طور پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک سرکاری ملازم سے اس کی نجی زندگی میں بھی ذمہ دارانہ اور مہذب کردار کی توقع کی جاتی ہے۔

کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے عدالتی فیصلے میں ذکر کیا گیا کہ ملزم جواد عباسی نے 2022 میں اپنی بیوی پر بے پناہ تشدد کرتے ہوئے اسے آگ لگائی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس سنگین واقعے کی روشنی میں کی جانے والی محکمانہ انکوائری کے دوران 13 گواہوں کے تفصیلی بیانات بھی باقاعدہ قلمبند کیے گئے تھے۔