وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تجارتی بنیادوں پر امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں کے لیے پانچ سال کی حد کو ختم کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب بیرون ممالک سے پانچ سال سے زیادہ پرانی استعمال شدہ گاڑیاں بھی پاکستان درآمد کی جا سکیں گی۔ اس فیصلے کے بعد یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ کیا اب پرانی گاڑیوں کی قیمت میں کمی ہو سکے گی۔
وزارتِ تجارت نے حال ہی میں ایک وضاحتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 اکتوبر 2026 سے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر عائد پانچ سال کی پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد یہ شرط مزید لاگو نہیں رہے گی۔ اس سے قبل زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک پرانی گاڑی ہی درآمد کی جا سکتی تھی۔
نئی پالیسی کے تقاضے اور حفاظتی معیارات:
وزارت تجارت نے اس پانچ سال کی پابندی کی شرط کا خاتمہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ، درآمدی پالیسی تقاضوں سے مشروط ہو گی اور اس حوالے سے ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عملدرآمد لازمی ہو گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے شعبے میں اٹھایا جانے والے اس نئے اقدام سے قبل وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نئی آٹو پالسی کی بھی منظوری دے چکے ہیں، جس کے بعد اب اسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا کرولا 2027 فیس لِفٹ پاکستان میں پرانی جنریشن کے ساتھ جاری رہنے کا امکان
نئی آٹو پالیسی کے اہداف اور تجاویز:
اس نئی آٹو پالیسی میں پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں مسابقت کو فروغ دینے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے اور ملکی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کے شعبے کی برآمدی صلاحیت بڑھانے سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
آٹو سیکٹر کے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر پانچ سال کی پابندی ختم کرنے سے فی الحال گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری بڑی کمی کا امکان کم ہے، تاہم خریداروں کو اتنی ہی قیمت میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی کے مقابلے میں ایک بہتر، معیاری اور زیادہ آرام دہ درآمدی گاڑی دستیاب ہو سکے گی۔
ماہرین کی رائے اور سابقہ پالیسی کی تفصیلات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف درآمدات بڑھانے کے بجائے حکومت کو ملک کے اپنی آٹو انڈسٹری کی ترقی پر بھی توجہ دینی چاہیے، جس کی مدد سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ صارفین کو بھی بہتر اور سستی گاڑیاں مل سکیں گی۔
استعمال شدہ پرانی گاڑیوں کے حوالے سے سابقہ پالیسی کی تفصیل بتاتے ہوئے آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ماضی میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ سکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان درآمد کر سکتے تھے۔




