ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے سیالکوٹ میں اپنی شادی کی تقریب کے دوران مچنے والی بھگدڑ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واقعے کو ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کی ہے کہ اس حادثے کو ان کے اوپر نہ ڈالا جائے کیونکہ ان کا کوئی قصور نہیں ہے اور انہوں نے کچھ نہیں کیا، بلکہ وہ تو وہاں موجود ہی نہیں تھے۔
مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید وضاحت کی ہے کہ وہ اپنی طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد خود کو پولیس کے سامنے پیش کر دیں گے۔ یاد رہے کہ ان کی شادی کی تقریبات گزشتہ چند روز سے جاری تھیں اور وہ ان کی تصاویر و ویڈیوز سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر کر رہے تھے۔
سیالکوٹ پولیس کی کارروائی اور مقدمے کی تفصیلات:
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کی پولیس نے مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے پر ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو سمیت دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ، ہلاکتیں 2 ہو گئیں،12زخمی
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاکر مسٹر پتلو سمیت دیگر نامزد ملزمان اس وقت مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
درج ایف آئی آر اور جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ:
ایف آئی آر میں مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد ملزمان جبکہ 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع جیسی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
اتوار کے روز واقعے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص بھی جان کی بازی ہار گیا جس سے جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ سیالکوٹ پولیس کے مطابق زخمی ریحان کو تشویشناک حالت کے باعث لاہور ریفر کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔




