سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر 19 اپیلوں کی سماعت مکمل ہو گئی ہے، جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے اس اہم مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جناب جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اگست میں ہائی کورٹ نے آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کے داخلوں کے حوالے سے کوٹہ سسٹم ختم کرتے ہوئے تمام تقرریاں اوپن میرٹ پر کرنے کا فیصلہ دیا تھا، جس کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں 19 مختلف اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ اس اہم مقدمے کی سماعت کے دوران سینئر وکلاء عبدالرشید عباسی، راجہ سجاد خان اور دیگر نے دلائل دیے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
قانونی پہلو اور وکلاء کی گفتگو:
مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے نامور سینئر وکیل سابق ایڈوکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیرصاحبزادہ محمود احمد ایڈووکیٹ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت میں کیس کو انتہائی صبر آزما اور تسلی بخش طریقے سے سنا گیا۔ انہوں نے مؤقف پیش کیا کہ آزاد کشمیر میں پہلے سے موجود کوٹے کے طریقہ کار سے پسماندہ اور پہاڑی علاقوں کے لوگوں کو سہولت حاصل تھی، جہاں تعلیم تک رسائی نسبتاً مشکل ہے۔
صاحبزادہ محمود احمد کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے پورے آزاد کشمیر کا سول سرونٹس کی تقرریوں کا نظام اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پریشانی اور انتظار کی حالت میں تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت کے اس فیصلے سے ریاست میں ملازمتوں اور داخلوں کے حوالے سے پھیلا ہوا جمود ختم ہو جائے گا۔




