مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) پیپلز پارٹی آزاد کشمیرکے سینئر رہنما سردار جاوید ایوب نے موجودہ حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار سنبھالتے وقت عوام سے کئے گئے 100 روزہ روڈ میپ اور ترقیاتی منصوبوں کے وعدے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کرسکے۔
کشمیر ڈیجیٹل کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق وزیر حکومت سردار جاوید ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت کو قائم ہوئے 60 سے 61 روز گزر چکے ہیں لیکن ان کے بقول اب تک تبادلوں اور مبینہ غیر قانونی و بغیر اشتہار بھرتیوں کے علاوہ کوئی نمایاں عملی پیشرفت دکھائی نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وزیر اعظم افتخار گیلانی
سردار جاوید ایوب نے آزاد کشمیر میں ضرورت کی بنیاد پر منظور کئےگئے تعلیمی پیکیج اور اصلاحات پر عمل درآمد میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی کارکردگی سوائے تبادلے اور بوگس تقرریوں کے سواکچھ نہیں ہے، یہاں حکومت ہے ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں داخلوں اور بورڈ رجسٹریشن کا عمل شروع ہونے والا ہے مگر حکومتی عدم توجہی کے باعث طلبہ اور تعلیمی نظام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی عملی موجودگی محسوس نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کوئی واضح منصوبہ بندی اور موثر روڈ میپ نظر نہیں آتا جبکہ ترقیاتی دعوے صرف بیانات تک محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی آزادکشمیر پارلیمانی پارٹی اجلاس، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ 16ویں ترمیم کا ابھی تک مسودہ سامنے نہیں آیا ، 13ویں ترمیم بھی جلدی میںبھی کی گئی، 16ویں ترمیم کا مسودہ سامنے آنے پر ہی بات کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیرکونسل کو بااختیار بنانے پر بات کی جاسکتی ہے کیونکہ 13ویں ترمیم عجلت میں لائی گئی تھی۔




