اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان رجیم کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے پاکستان کے تحفظات اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسے سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج افغانستان کی جانب سے درپیش تمام خطرات، بشمول ڈرونز، کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان اپنے مقاصد کیلئے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں اب بھی غیر ریاستی عناصر کا اثر و رسوخ موجود ہے اور طالبان رجیم ایک معمول کی ریاست جیسا طرزِ عمل اختیار نہیں کر رہا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل کا دو بار تہران جانا مثبت پیشرفت ،امریکا ایران ثالثی پر محتاط انداز میں پرامید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی ہے، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسیز کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا دعویٰ
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ روسی مداخلت کے بعد افغانستان میں مختلف خفیہ ایجنسیوں اور پراکسی گروپس نے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ ان کے مطابق جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں، جن کی نشاندہی اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان رجیم نے نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں اور انہیں وہیں سے اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔
پاکستان کا افغان طالبان سے مطالبہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان طالبان سے بنیادی مطالبہ ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی حمایت بند کریں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر کوئی ساکھ نہیں، بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ اسے ایک ذمہ دار ریاست جیسا طرزِ عمل اختیار کرنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان طالبان کو منشیات کی کاشت اور پیداوار روکنے کیلئے بھی پابند کیا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ملک دشمن عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور مسلح افواج ہر قسم کے خطرے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔




