ایکشن کمیٹی

جہلم ویلی کےعوام کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف سخت ردعمل

جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل) کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، شہریوں نے کمیٹی کے کردار اور سرگرمیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن و امان کا قیام، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور معمولات زندگی کی بحالی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اس لیے کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو۔

عوامی حلقوں میں تشویش
شہریوں کا کہنا ہے کہ احتجاج اور اختلاف رائے ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم اس حق کو استعمال کرتے ہوئے قانون اور آئین کی حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی احتجاج کے باعث عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور ملازمین کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ معاملات کو تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔

حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات  کئے جائیں اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کی رٹ برقرار رہنی چاہیے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور میں اسلحہ برآمدگی کی اطلاعات اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے کردار پر شہریوں اور عوامی حلقوں کی رائے

شہریوں نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کے حل  کیلئے حکومت اور متعلقہ فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ علاقے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔