مسئلہ کشمیر: بدلتے زمینی حقائق اور ہماری سیاسی ذمہ داریاں

تحریر:چوہدری طارق فاروق سپیکرقانون ساز اسمبلی 

ہم نے بچپن سے اپنے بزرگوں، تعلیمی نصاب اور سیاسی قیادت سے یہی سنا اور پڑھا کہ ریاست جموں و کشمیر تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ خطہ بن گئی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے عوام کو حقِ خودارادیت حاصل ہونا ہے اور انہیں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

اسی تاریخی پس منظر میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ وجود میں آیا۔ اس کا مفہوم پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی آزادانہ رائے سے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش اور جدوجہد تھا۔

لیکن گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں زمینی حقائق بہت بدل چکے ہیں۔ آج ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصے پاکستان، بھارت اور چین کے زیرِ انتظام ہیں۔ تینوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے پاکستان کے ساتھ گہرے جغرافیائی، معاشرتی، معاشی اور تاریخی روابط ہیں، جبکہ وادیٔ کشمیر، جموں اور لداخ کے علاقوں کی اپنی جداگانہ جغرافیائی اور سیاسی پیچیدگیاں ہیں۔

یہ زمینی حقائق نظرانداز کرکے مستقبل کی کوئی سنجیدہ حکمت عملی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی، آئینی تحفظ، انصاف اور معاشی ترقی سے محروم رکھا جائے؟

آزاد جموں و کشمیر میں ایک منتخب اسمبلی، حکومت، عدلیہ اور مکمل انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہاں کے عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور اپنے داخلی معاملات میں جمہوری اختیار رکھتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ان کے روزگار، تعلیم، کاروبار اور نقل و حرکت کے وسیع مواقع اور حقوق وابستہ ہیں۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کا انتظامی و آئینی ڈھانچہ مختلف نوعیت کا ہے، جسے اپنے مخصوص تاریخی اور قانونی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

دونوں خطوں کے عوام کو ان کی ضروریات کے مطابق آئینی، انتظامی اور معاشی سہولتیں فراہم کرنا حکومت پاکستان اور متعلقہ مقامی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

افسوس کہ ہماری سیاست کا ایک بڑا حصہ آج بھی عوامی مسائل کے بجائے اقتدار، عہدوں اور سیاسی مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ کبھی ایک نعرہ، کبھی ایک فارمولا، کبھی چار نکات اور کبھی کسی نئی ترمیم کے نام پر عوامی جذبات کو متحرک کیا جاتا ہے۔ آئینی اصلاحات کو بھی بعض حلقوں کی جانب سے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ہر انتظامی تبدیلی مسئلہ کشمیر کے خاتمے کے مترادف ہو۔

آج بھی جب آزاد کشمیر میں انتظامی اور آئینی اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے صوبہ بننے، ریاستی تشخص ختم ہونے اور تحریک آزادی کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیش کیے جاتے ہیں۔

یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیا ہر اصلاح ریاستی تشخص کے خلاف ہے؟ کیا عوام کو انصاف، بہتر انتظامیہ، معاشی مواقع، مضبوط ادارے اور مؤثر دفاع فراہم کرنا مسئلہ کشمیر سے انحراف ہے؟

ریاستی تشخص اور حقِ خودارادیت کا تحفظ اپنی جگہ، لیکن عوام کے بنیادی حقوق اور فلاح و بہبود بھی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہیں۔

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے وابستہ ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے موجودہ انتظامی، آئینی اور معاشی مسائل کو حل کرنے سے گریز کریں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کیلئے ایک ایسا مؤثر اور قابلِ عمل نظام تشکیل دیا جائے جو ان کے جمہوری حقوق، داخلی خوداختیاری، ریاستی تشخص، معاشی خوشحالی، انصاف اور دفاعی ضروریات کا تحفظ کرے۔

پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خطوں کے عوام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلق کو محض نعروں تک محدود نہ رکھے بلکہ ان کی عملی ترقی، خوشحالی اور آئینی حقوق کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ اسی طرح مقامی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفادات کو ذاتی اقتدار پر ترجیح دے۔

ہمیں نہ مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہونا ہے، نہ ریاستی تشخص سے، اور نہ ہی اپنے عوام کے مستقبل کو غیر معینہ مدت تک قیاس اور انتظار کے حوالے کرنا ہے۔

مناسب یہی ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق، سیاسی حقیقت پسندی، آئینی بصیرت اور عوامی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔

کیونکہ سیاست کا مقصد  صرف اقتدار کا حصول نہیں، عوام کی خدمت، ان کے حقوق کا تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر ہے۔