وادی نیلم:چشمے ،صاف پانی ،دریا آلودہ،شہریوں کیلئے وبال بن گئے

نیلم(کشمیر ڈیجیٹل )وادی نیلم کے پرفضا ماحول، قدرتی چشموں، صاف پانی کے ذرائع اور دریائے نیلم کو سیوریج کے گندے پانی سے آلودہ کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ برداشت ہوتا جارہا ہے۔

ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، تجارتی مراکز اور بعض گھروں کی سیوریج لائنوں کا گندا پانی براہِ راست دریائے نیلم، ندی نالوں، قدرتی چشموں اور واٹر چینلز میں چھوڑا جانے لگا۔

سیوریج کا گندا پانی نہ صرف ماحول دشمن  بلکہ انسانی صحت، آبی حیات، سیاحتی معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہے۔

ریٹائرڈ مدرس خواجہ لطف العزیز نے محکمہ تحفظِ ماحولیات، محکمہ صنعت و حرفت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی نیلم کے قدرتی ماحول کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری، مؤثر اور بلاامتیاز اقدامات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شاردہ، لوات،لوات بالا، کیل، تاوبٹ، دواریاں، کیرن، آٹھمقام، کنڈل شاہی، جورا اور باڑیاں سمیت مختلف علاقوں میں سیوریج کے غیر مؤثر نظام وبال جان بن گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر عمر کی حد ختم کرنے کا اعلان

کھلے مین ہولز، واش رومز کے گندے پانی اور ہوٹلوں و گیسٹ ہاؤسز کے فضلے کی ناقص نکاسی کے باعث وادی کے صاف پانی اور قدرتی ماحول کو آلودگی کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی نیلم محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کا انمول عطیہ، صاف پانی کے ذخائر اور حیاتیاتی تنوع کا اہم مرکز ہے۔

اس کے باوجود اگر ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر عمارتوں کا گندا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریائے نیلم اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں پھینکا جاتا رہے تو یہ صورتِحال کسی بڑے ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

سیاحت کے نام پر کاروبار کرنے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے منافع کے لیے مقامی آبادی کی صحت، قدرتی وسائل اور ماحول کو داؤ پر لگا دیں۔

خواجہ لطف العزیز نے مطالبہ کیا کہ تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی عمارتوں کے سیوریج نظام کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کیا جائے۔

گندے پانی کو دریاؤں، ندی نالوں اور چشموں میں براہِ راست چھوڑنے پر پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کئے جائیں اور مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کاروبار بند کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات کئے جائیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم، فوڈ اتھارٹی کا بڑا کریک ڈاؤن، مضر صحت اشیاء تلف، دکانداروں پر جرمانے

انہوں نے مزید کہا کہ کھلے مین ہولز کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے، سیوریج کے پانی کی صفائی کیلئے مناسب ٹریٹمنٹ سسٹم نصب کئے جائیں۔

قدرتی چشموں اور واٹر چینلز کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے اور ذمہ دار اداروں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ محض نوٹس جاری کرنا، اجلاس منعقد کرنا اور کاغذی کارروائیاں کرنا کافی نہیں؛ اب عملی اقدامات اور قانون کی حقیقی عملداری ناگزیر ہے۔

اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا خمیازہ پوری وادی کی آبادی، سیاحوں اور آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

خواجہ لطف العزیز نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وادی نیلم کے قدرتی حسن اور آبی وسائل کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

کیونکہ صاف پانی اور صحت مند ماحول کسی فرد یا ادارے کی جاگیر نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق اور مشترکہ قومی و قدرتی ورثہ ہے۔