پاکستان میں پریمیم بائیکس اسمبلنگ! قیمتوں میں بڑی کمی متوقع

پاکستان میں ہیوی بائیکس کے شوقین افراد کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑی خبر سامنے آگئی ہے، جہاں پریمیم موٹر سائیکلوں کی مقامی اسمبلنگ کے منصوبے سے مہنگی درآمدی بائیکس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

براق آٹوموبائلز نے اٹلی اور چین کے معروف موٹر سائیکل برانڈز کی پاکستان میں باقاعدہ اسمبلنگ شروع کرنے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس سے ملک کی پریمیم بائیک مارکیٹ میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی متوقع ہے۔

اسمبلنگ پلانٹ اور پیداوار کا شیڈول:

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مبین احمد کے مطابق اسمبلنگ پلانٹ رواں سال دسمبر تک مکمل طور پر تیار ہونے کی توقع ہے، جبکہ باقاعدہ پیداوار کا آغاز جنوری 2027 سے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

جدید ای ایف آئی ٹیکنالوجی کی فراہمی:

کمپنی کی جانب سے الیکٹرانک فیول انجیکشن (EFI) ٹیکنالوجی سے لیس جدید موٹر سائیکلیں بھی متعارف کرانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے، جن سے صارفین کو بہتر فیول ایوریج اور اعلیٰ کارکردگی فراہم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب نئی ہونڈا بائیکس آسان ماہانہ اقساط پر حاصل کریں

بین الاقوامی برانڈز اور مقامی اسمبلنگ کا پہلا مرحلہ:

براق آٹوموبائلز اس وقت بینلی (Benelli)، موٹو مورینی (Moto Morini) اور کیو جے موٹر (QJMOTOR) جیسے بین الاقوامی معروف برانڈز کی موٹر سائیکلیں پاکستان میں درآمد اور تقسیم کرتی ہے۔ مقامی اسمبلنگ کے منصوبے کے تحت ان مہنگی بائیکس کو پاکستانی مارکیٹ میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں موٹو مورینی کی آل ٹریک 450 (Alltrhike 450) ایڈونچر بائیک کی مقامی اسمبلنگ شروع کی جائے گی، جس کے بعد 300 سی سی موٹر سائیکل ماڈل کو بھی مقامی سطح پر تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی ایک اور بین الاقوامی برانڈ کی موٹر سائیکلوں کی اسمبلنگ پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم اس برانڈ کا نام فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

قیمتوں میں 23 فیصد تک ممکنہ کمی:

مقامی اسمبلنگ کا سب سے اہم ممکنہ فائدہ موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ مبین احمد کے مطابق آل ٹریک 450 کی موجودہ درآمدی قیمت 26 لاکھ روپے ہے، جبکہ پاکستان میں اسمبلنگ شروع ہونے کے بعد اس کی ممکنہ قیمت 19 لاکھ 95 ہزار روپے تک لانے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح اس موٹر سائیکل کی قیمت میں تقریباً 6 لاکھ 5 ہزار روپے، یعنی لگ بھگ 23 فیصد تک بڑی کمی ہو سکتی ہے۔

حکومتی آٹو پالیسی اور سی کے ڈی ڈیوٹی میں چھوٹ کا امکان:

کمپنی کے مطابق اگر حکومت کی مجوزہ آٹو پالیسی کے تحت مکمل طور پر ناکارہ حالت میں درآمد کی جانے والی موٹر سائیکلوں کی سی کے ڈی (CKD) کٹس پر ڈیوٹی میں مزید کمی کی جاتی ہے تو مقامی اسمبلنگ کے اخراجات کم ہونے سے قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے پاکستان میں پریمیم موٹر سائیکلوں کے خریداروں کو نسبتاً کم قیمت پر بین الاقوامی برانڈز کی بائیکس خریدنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم حتمی قیمتوں، پیداوار کے آغاز اور ممکنہ رعایتوں کا تمام تر انحصار پلانٹ کی بروقت تکمیل، پیداواری لاگت اور حکومتی پالیسی کے تحت درآمدی ڈیوٹیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔