راولاکوٹ میں پرتشدد واقعات اور ہسپتال پر حملے: شہریوں کی مذمت

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے جتھے کی جانب سے پیش آنے والے پرتشدد واقعات، ہسپتال اور ایمبولینسز پر حملوں کے بعد مظفرآباد کے شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہذب دنیا میں مطالبات گولی اور بندوق سے نہیں بلکہ پرامن طریقوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔

مظفرآباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ کا موجودہ ایشو پورے آزاد کشمیر کا نہیں بلکہ ایک دو شہروں کی حد تک محدود ہے۔ نئی بننے والی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے نہ کہ آئے دن کی ہڑتالوں اور بندوق کے استعمال سے عام لوگوں اور پڑھنے والے بچوں کا نقصان کیا جائے۔ عوام اب ان ائے دن کے احتجاج سے تنگ آ چکے ہیں، اس لیے ایکشن کمیٹی کے احباب سے گزارش ہے کہ ریاست کو درست ڈگر پر چلنے دیں اور نئی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد جموں وکشمیرمیں فسادی جتھے کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئے

پرتشدد کارروائیوں پر ریاست کا ردعمل اور ہسپتالوں کا تقدس:

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ جب کوئی بھی عوامی تحریک پرتشدد واقعات کی طرف چلی جاتی ہے تو ریاست اپنی رٹ قائم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ریاست پر سختی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ہسپتالوں پر حملے انتہائی قابلِ مذمت ہیں کیونکہ ہسپتال وہ مقدس مقام ہے جہاں دشمن بھی حملہ نہیں کرتا اور یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی پروٹیکٹڈ ہوتے ہیں۔ عام لوگوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت سے سخت قانونی ایکشن ہونا چاہیے۔

مسلح جتھوں سے اپیل: انتشار پھیلانے سے گریز کریں:

شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ راولاکوٹ کا حالیہ واقعہ انتہائی دکھ اور غم کا باعث ہے۔ جب حالات بہتری کی طرف جا رہے ہوں تو بعض قوتیں ریاست میں امن نہیں دیکھنا چاہتیں اور ترقی سے خوفزدہ ہیں۔ ایسے عناصر کا یہ رویہ نہ صرف ان کے اپنے لیے بلکہ پوری ریاست کے لیے نقصان دہ ہے۔ عوام اور مسلح جتھوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ریاست کے بچوں اور عام عوام پر رحم کریں، انارکی اور دہشت گردانہ عمل سے گریز کریں تاکہ موجودہ حکومت ملک اور ریاست کی بہتری کے لیے کام کر کے عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر سکے۔