آزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد ایک بار پھر منظر عام پر آ گئے ہیں، جہاں مسلح عناصر نے سرکاری املاک، ہسپتال اور عام شہریوں کو اپنی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فسادی جتھے کے مسلح کارندوں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال راولاکوٹ اور ملحقہ سول آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے باعث فائر کی گئی گولیاں ہسپتال کے اندر قائم مختلف وارڈز اور وہاں موجود ایمبولینسز پر جا کر لگیں۔ اس پرتشدد واقعہ کی وجہ سے ہسپتال کے مریضوں اور علاقے کی سول آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ضلعی پولیس راولاکوٹ کا باضابطہ بیان:
ضلعی پولیس راولاکوٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 28 اکتوبر کی شام فسادی جتھے (کالعدم ایکشن کمیٹی) کے مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے سول آبادی پر شدید فائرنگ کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فسادی جتھے کی اس پرتشدد فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار مخدوم اسحاق اور ایک عام شہری شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کے لیے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا وار، آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت فتنہ الہندوستان کا دہشت گرد ہلاک
ہسپتال اور ایمبولینسز کو شدید نقصان:
ضلعی پولیس راولاکوٹ نے مزید بتایا کہ شرپسند عناصر کی جانب سے فائرنگ کر کے سرکاری ہسپتال کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ مریضوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی ایمبولینس پر بھی مسترد نہ کی جانے والی فائرنگ کی گئی، جس سے ہسپتال کا انفراسٹرکچر متاثر ہوا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی گاڑی سمیت اغوا:
اسی دوران ایک اور سنگین واقعے میں راولاکوٹ سے پلندری جانے والی شاہراہ پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو فسادی جتھے کے مسلح عناصر نے گاڑی سمیت اغوا کر لیا ہے۔ ضلعی پولیس راولاکوٹ کے مطابق مغوی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی محفوظ اور جلد بازیابی کے لیے تمام ضروری اور تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قانون شکن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا عزم:
ضلعی پولیس راولاکوٹ نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فسادی جتھے کی غیر قانونی سرگرمیوں اور تمام قانون شکن عناصر کے خلاف قانونی کارروائیاں بلا تفریق اور بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ خطے میں امن و امان کی فضا کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے۔




