کھڑی شریف کو فوری تحصیل کا درجہ دیا جائے، صدر آزادکشمیر ،حکومت کو مطالبات پیش

میرپور: صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ فی الفور حلقہ کھڑی شریف کو تحصیل کا درجہ دیا جائے ڈڈیال میں بھی تحصیل ہے چکسواری میں 2تحصیلیں ہیں۔

میرپور میں تحصیل ہے، سماہنی میں تحصیل ہے، بھمبر اور برنالہ میں بھی تحصیل ہے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ کھڑی میں کیوں تحصیل نہیںہے،ں حکومت کو فوری طور پر ہدایت کرتا ہوں کہ کھڑی شریف کو فوری طور پر تحصیل کا درجہ دیا جائے۔

کھڑی شریف میں عظیم الشان افطار ڈنر کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ رورل ہیلتھ سنٹر پنڈی سبھراوال کو تحصیل ہسپتال کا درجہ دیا جائے۔

چوہدری ارشد حسین کی قیادت میں کھڑی شریف کے غیور عوام نے جس ولولے جس جوش جس محبت و عقیدت سے میرا والہانہ اور پر تپاک استقبال کیا ہے میں دل کی عمیق گہرائیوں سے اہلیان کھڑی شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

کھڑی میرا آبائی حلقہ ہے کھڑی کے عوام نے ہمیشہ کڑے اورکٹھن حالات میں پوری استقامت اور جواں مردی سے میرا ساتھ دیا ہے انشا ء اللہ یہ ساتھ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری ارشد حسین حلقہ کھڑی کے سدا بہار ایم ایل اے ہیں آج افطار ڈنر کے عظیم الشان اجتماع کو دیکھ کر صاف نظر آ رہا ہے کہ چوہدری ارشد حسین اگلا الیکشن بلا مقابلہ ہی جیت جائیں گے۔

حلقہ کھڑی شریف کے جملہ مسائل کو پہلی فرصت میں حل کیا جائے کھڑی شریف کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر آزاد کشمیر کی باغ کی ترقی کے لیے وسائل بروئے کار لانےکی یقین دہانی

چوہدری ارشد حسین آپ کے نمائندے ہیں جو حلقہ کھڑی شریف کی تعمیر و ترقی میں شبانہ روز مصروف عمل رہتے ہیں میں انہیں اس حوالے سے وقتاً فوقتاً ہدایت بھی کرتا رہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے اندر بسنے والے ہر کشمیری کی یہ قومی و ملی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے میدان عمل میں نکل پڑے۔

صدر ریاست کے عہدہ جلیلہ کا حلف اٹھاتے وقت میں نے کہا تھا کہ میں نے کسی ملک کسی ریاست یا کسی صوبے کے صدر کا حلف نہیں اٹھایا بلکہ میں نے آزادی کے بیس کیمپ کے صدر کا حلف اٹھایا ہے اس لیے میری اولین ترجیحی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے جدوجہد کرنا ہو گا آج بھی میری پہلی ترجیح کشمیر ایشو کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔

میں نے اپنی صدارت کے ساڑھے تین سالہ دور میں ریاست کو آزادی کا حقیقی معنوں میں بیس کیمپ بنا کر کشمیر ایشو کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں کما حقہ نبھائیں۔

Scroll to Top