ڈھاکا (کشمیر ڈیجیٹل) بنگلادیش کی انڈر 18 کرکٹ ٹیم کے انتہائی باصلاحیت اور ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر مہدی حسن ہردوئے خون کے موذی سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ وہ محض 18 برس کے تھے اور بہتر علاج کی غرض سے ڈھاکا منتقل کیے جانے کے دوران ایمبولینس ہی میں دم توڑ گئے۔
بنگلادیشی ذرائع ابلاغ، بشمول خبر رساں ادارے ‘بنگلادیش سنگباد سنگستھا’ اور روزنامہ ‘ڈھاکا پوسٹ’ کی رپورٹس کے مطابق مہدی حسن ہردوئے چٹاگانگ ڈویژن کی انڈر 18 ٹیم کے ایک اہم رکن تھے اور بائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی کی صلاحیت رکھتے تھے۔ انہیں مقامی کرکٹ سطح پر ایک ابھرتا ہوا امید افزا کھلاڑی تصور کیا جاتا تھا اور ان کا بنیادی خواب بنگلادیش کی قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنا تھا۔
خون کے سرطان کے باعث طبی پیچیدگیاں:
ذرائع اور رپورٹس کے مطابق یہ نوجوان کرکٹر ایکیوٹ مائیلائڈ لیوکیمیا (AML) نامی خون کے شدید اور مہلک سرطان کے عارضے میں مبتلا تھے۔ گزشتہ دنوں ان کی طبیعت اچانک زیادہ بگاڑ کا شکار ہو گئی، جس پر انہیں اعلیٰ اور بہتر علاج معالجے کی فراہم کاری کے لیے ایمبولینس کے ذریعے دارالحکومت ڈھاکا منتقل کیا جا رہا تھا۔
تاہم، سفر کے دوران ہی ان کی حالت مزید غیر ہو گئی اور وہ طبی مرکز یا اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سہ ملکی ون ڈے سیریز: قذافی اسٹیڈیم میں آج پاکستان اور انگلینڈ کا بڑا معرکہ
کرکٹ بورڈ اور حکومت کی معاونت، کھیلوں کے حلقوں میں سوگ:
مہدی حسن ہردوئے کے علاج و معالجے کے لیے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل نے مالی معاونت بھی فراہم کر رکھی تھی۔ رواں برس جولائی کے مہینے میں دونوں اداروں نے ان کے علاج کی غرض سے بالترتیب پانچ، پانچ لاکھ ٹکا کی رقم جاری کی تھی، مگر تمام تر طبی کوششوں اور مالی معاونت کے باوجود ان کی قیمتی جان نہ بچائی جا سکی۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے نوجوان فاسٹ بولر مہدی حسن ہردوئے کے اس ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور متوفی کے غمزدہ اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ ان کے کم سنی میں اس دنیا سے چلے جانے پر خاندان، دوستوں، ساتھی کھلاڑیوں اور بنگلادیش کے تمام کرکٹ حلقوں میں شدید سوگ اور ملال کی فضا قائم ہے۔




