آزاد کشمیرکے شہریوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم آزاد کشمیر سے زور دار اپیل کی ہے کہ اس موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کے مطابق جاری احتجاجی سرگرمیوں، دھرنوں اور ہڑتالوں کی وجہ سے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی اور کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چند سو لوگوں نے پورے راولاکوٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے لہٰذا ان سے اب عوام کی جان چھڑوائی جائے اور عوام کو اس دلدل سے نکالا جائے۔
مظفرآباد کے عوام کا اس حوالے سے کیا موقف ہے، اس پر بات کرتے ہوئے نوجوان قانون دان، سیاسی و سماجی رہنما راجہ عبداللہ امتیاز نے کشمیر ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے اندر تمام مسائل کا حل ہمیشہ ڈائیلاگ اور مکالمے کے ذریعے ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اس وقت ترقی یافتہ ملکوں کے اندر 40 سالہ پرانے مسائل بھی ٹیبل ٹاپ کے ذریعے ریزولو ہو رہے ہیں۔
راجہ عبداللہ امتیاز کا مؤقف اور حکومت سے مطالبات:
راجہ عبداللہ امتیاز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو سب سے اہم مسئلہ آزاد کشمیر کے اندر ہے،پونچھ ڈویژن کے اندر کچھ لوگوں کا دھرنا ہے جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت میں بیٹھی ہوئی ہے، جو دعویٰ کرتی ہے کہ ہم انسانی حقوق اور نوجوانوں کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کو وہاں سے اٹھانا تمام مکاتبِ فکر، تمام اسٹیک ہولڈرز اور حکومتِ وقت کا مشن ہونا چاہیے۔ میں آپ کے چینل کی وساطت سے بھی یہ گزارش کروں گا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور بالخصوص گورنمنٹ آف پاکستان اور تمام قومی و عسکری قیادت اس میں انٹروین کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی طور پر بھی اگر آپ دیکھیں تو اس وقت آزاد کشمیر کے اندر بھی مسلم لیگ (ن) کی گورنمنٹ ہے اور پاکستان کے اندر بھی مسلم لیگ (ن) کی گورنمنٹ ہے، یعنی پولیٹیکلی ون میرٹ اور ون آئیڈیالوجی ہے دونوں پارٹیز کی۔ ان کو چاہیے کہ وہ کنسنسس سے، جس طرح پہلے حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ آزاد کشمیر کے لوگوں کی ترجمانی کی ہے، چاہے وہ سیاسی محاذ پر ہو، سفارتی محاذ پر ہو یا کوئی بھی بین الاقوامی فورم ہو، حکومتِ پاکستان نے کبھی بھی آزاد کشمیر کے لوگوں کی ترجمانی سے اپنا پہلو نہیں چھڑایا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے شہری عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں اور ہڑتالوں سے تنگ، وزیراعظم سے اپیل
مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کے حقوق:
ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھ لیں کس طرح اقوامِ متحدہ کے اندر پرائم منسٹر شہباز شریف صاحب نے دنیا کو یہ بتایا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کس طرح ناانصافی اور زیادتی ہو رہی ہے۔ تو اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ دونوں گورنمنٹس کو یہ چاہیے کہ وہ مل کر پونچھ ڈویژن کے مسائل کو حل کریں تاکہ ریاست کا امن بحال ہو، وہاں کے مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی بحال ہو اور بالخصوص جو آپ کا مستقبل ہیں، نوجوان، ان کا مستقبل سیکور ہو سکے۔
راجہ عبداللہ امتیاز نے کہا کہ یہ ریاست ہمارے شہداء کے خون سے آباد ہے، اس میں ہمارے اکابرین نے، ہمارے تحریکِ آزادی کے رہنماؤں نے اور حکومتِ پاکستان کے نمائندگان نے بڑی قربانیوں کے بعد یہ خطہ حاصل کیا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی اٹھ کر کہے کہ ہم اپنا تعلیمی نظام لے آتے ہیں اور اپنی ریفارمز لاتے ہیں، یہ کوئی بنانا اسٹیٹ تو نہیں ہے، ہم نے نوجوانوں کی خانہ جنگی کی طرف تو نہیں دھکیلنا۔
تعلیم، معیشت اور ریاست کی رٹ:
انہوں نے کہا کہ جو لفظ یونیورسٹی ہے، یہ یونیورس سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کہ پوری دنیا کی بات ہو رہی ہے۔ آپ کے پُنش کے اندر جو جامعہ ہے، وہاں پر نہ صرف پونچھ کے مقامی نوجوان ہیں بلکہ دوسرے اضلاع سے بھی لوگ تشریف لائے ہوئے ہیں، بہت سے پاکستان کے اسٹوڈنٹس بھی اس میں موجود ہوں گے۔ مجھے آپ یہ بتائیں کہ وہاں کے عام آدمی کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، لیبر کلاس کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، ہماری خواتین کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، ڈیلی ویجز پر جو لوگ کام کر رہے ہیں، اس طرح آپ مجھے بتائیں آپ دنیا سے اگر مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، تو اپنے نوجوانوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہاں ہمارا سرمائی اسٹیشن ہے، وہاں ونٹر آنے والا ہے، وہاں شدید برف باری ہوگی۔ مجھے آپ بتائیں اگر وہاں لوگوں کے پاس فوڈ سیکیورٹی کا ایشو ہو گیا، لوگوں کو خوراک کی ترسیل نہ ہو سکی وقت پر، تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس لیے لہذا میں ایکشن کمیٹی کے نمائندگان سے بھی کہتا ہوں کہ ایک دفعہ پھر ہوش کے ناخن لیں، اس ریاست سے وفاداری کا مظاہرہ کریں اور نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ یہ ریاست آپ کے اکابرین نے، آپ کے شہداء نے کس طرح حاصل کی ہے۔
پاکستان سے لازوال رشتہ:
راجہ عبداللہ امتیاز نے گفتگو کے آخر میں کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی یہ کہے کہ آپ اس کو بانانا اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ تعلیمی بورڈ کے بغیر، تعلیمی اصلاحات کے بغیر، انسٹی ٹیوشنز کے بغیر، تعلیمی اداروں کے بغیر، یہ پراپر ایک ڈیکورم ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو آزاد کشمیر میں تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ یہ آپ کس طرح کی بات کرتے ہیں، میں تو کہتا ہوں شرم انی چاہیے ان لوگوں کو جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنا کوئی تعلیمی نظام لائیں گے۔ یہ ریاست ہے، ریاست کے اندر ریاست کا تصور نہیں ہو سکتا، اسٹیٹ ود اِن اسٹیٹ کا فارمولا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہمارا پاکستان سے ایک لازوال رشتہ ہے، میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ پاکستان سے رشتہ اس طرح ہے جس طرح جسم کے اندر خون ہے۔




