“100 لوگوں نے پورے راولاکوٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے”: شہریوں کا حکومتِ وقت سے فوری نوٹس لینےکا مطالبہ

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر شہریوں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ راولاکوٹ کے پریشان حال شہریوں نے حکومتِ وقت سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بس کی جائے، ہماری اس ایکشن کمیٹی سے جان چھڑوائی جائے اور اس سارے گند کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض ایک سو لوگوں نے پورے راولاکوٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے، جنہوں نے ہمارا جینا حرام کر دیا ہے اور ہماری زندگیاں مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دی ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اس نئی حکومت پر بہت زیادہ یقین اور اُمیدیں وابستہ ہیں، اور ہم اس ینگ قیادت کو دیکھ رہے تھے کہ کب آئے گی، انشاء اللہ کوئی نہ کوئی اس کا بہتر حل ضرور نکالے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو ہمارے اپنے بھائی دھرنوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، ہم ان سے بھی پُرجوش اپیل کرتے ہیں کہ آپ کے اس طرح بیٹھنے سے ہمارے اہم ترین کشمیر کاز کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر شہریوں اور رہنمائوں کی شدید تشویش، فوری کارروائی کا مطالبہ

شہریوں نے انتہائی سنجیدہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے روایتی حریف ہندوستان بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، اور ہر سطح پر اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ اسی لیے ہم ان سے دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ کوئی اچھا سا قابلِ عمل حل نکال لیا جائے جس سے اس خطے اور کشمیری کاز کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وقت کی موجودہ حکومت سے بھی ہمیں پوری امید ہے اور ہماری نظریں اسی پر جڑی ہوئی ہیں کہ وہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی مثبت اور دیرپا حل ضرور نکالے گی۔

ایک اور شہری نے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو ایکشن کمیٹی کے لوگ ابھی تک دھرنوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، ہم ان سے التماس کرتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاجی مظاہروں کو اب ختم کریں اور فوری طور پر مذاکرات کی میز کی طرف آئیں تاکہ تمام معطل معاملات احسن طریقے سے حل ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک تو لوگ باہر نکل رہے ہیں اور معمولاتِ زندگی کسی حد تک رواں دواں ہیں اور بالکل اپنے معمول پر ہیں، لیکن اگر دوبارہ سے اس طرح کے احتجاجی معاملات پیدا ہوئے تو پھر سے یہ سارا نظام بری طرح درہم برہم ہو جائے گا۔