اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) چیئرپرسن جموں کشمیر ڈیمو کریٹک پارٹی نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کو انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔
اسلام آباد بار کونسل کی قیادت، اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت کرنے والےوکلاء عدالت میں پیش ہوئے، جسکےبعد عدالت نے بغیر دلائل ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کو اسلام آباد کے ایف ٹین مرکز میں آزاد کشمیر کے حوالے سے ہونے والے احتجاج میں شرکت کے شبہے میں ان کی رہائش گاہ، آئی ایٹ اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چکوٹھی: پاک فوج کے اشتراک سے فری میڈیکل کیمپ، سینکڑوں مریضوں کا معائنہ
بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے 13 اکتوبر کو انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا، جبکہ درخواستِ ضمانت پر کارروائی جاری تھی۔
آج 17 اکتوبر کو نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کے وکلاء انسدادِ دہشت گردی عدالت، جی الیون اسلام آباد میں پیش ہوئے اور نبیلہ ارشاد کی درخواستِ ضمانت پر دلائل دیئے۔
جے کے چیمبر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، وکلاء ٹیم کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے فاضل جج نے درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر کمیٹی کی 10 سالہ سربراہی، کروڑوں کا بجٹ اور صرف 24 اجلاس: فضل الرحمان کی کارکردگی پر سنگین سوالات
درخواستِ ضمانت کی پیروی کرنے والی ٹیم میں چودھری آصف عرفان وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل، ظفر کھوکھر چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بار کونسل، علیم عباسی ممبر بار کونسل، چودھری خانزادہ سابق صدر اسلام آباد، خاور دانیال سیکرٹری اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، خواجہ سجاد ایڈووکیٹ، ملک حسیب ایڈووکیٹ و دیگر شامل تھے۔
جے کے چیمبرز اسلام آباد کے وکلاء سردار محمد حفیظ خان ایڈووکیٹ، زوفشاں صدیق ایڈووکیٹ، بیرسٹر سردار دانش ریاض خان،عثمان ناصر جوائنٹ سیکرٹری ہائی کورٹ، یاسر خوشحال ایڈووکیٹ، خان کامران ادریس یوسفزئی ایڈووکیٹ اور عابد ذاکر ایڈووکیٹ و دیگر نے بھی قانونی معاونت فراہم کی۔
وکلاء ٹیم نے درخواستِ ضمانت کی منظوری کو قانونی جدوجہد میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنے ساتھی وکلاء اور عدالتی کارروائی میں تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔




