طارق فاروق

3دوستوں کو اقتدار ملنا اتفاق زمانہ، ہمارا تعلق ذاتی اور سیاسی بھی ہے، سپیکر

 سپیکر قانون سازاسمبلی اورپاکستان مسلم لیگ(ن) آزادکشمیرکے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہا ہےآزادکشمیر حکومت کیلئے نامزدگیوں کا فیصلہ نوازشریف نے کیا اور نوازشریف کے فیصلوں میں حکمت،کلیئرٹی اور مستقبل کا نقشہ بھی ہے۔

3سابق وزرائے اعظم کو شکست سے سبق سیکھنا چاہئے ،ذاتیات کی سیاست، باربار وزرائے اعظم تبدیلی سے اپوزیشن کا تصورختم ہوجا تا ہے، آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم کی ضرورت ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نئے چیئرمین انویسٹمنٹ بورڈ کی تعیناتی،شاہ غلام قادر، طارق فاروق آمنے سامنے آگئے

سپیکر کا کہنا ہے کہ پورا آزادکشمیر برابرہے،علاقوں کی بنیاد پر سیاست نہیں ہونی چاہئے،کوشش ہے راولاکوٹ احتجاج کا سیاسی بنیادوں پرآئین کے اندر رہتے ہوئے حل نکالا جائے۔

چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ کی تعیناتی پر اعتراض پر شاہ غلام قادر کو جواب دیتے ہوئے طارق فاروق نے واضح کیا کہ چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ کا پارٹی سے تعلق ہونا ضروری نہیں لیکن چوہدری رضوان یوتھ ونگ کے ضلعی صدر رہ چکے ہیں۔شاہ غلام قادراپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

 مجاہد منزل میٹنگ، شاہ غلام قادر، فاروق حیدر نے پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا،ایوان کی کمیٹیاں احتساب کیلئے ضروری، وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر نے نام نہ دیئے تواپنا کام کرونگا۔

کشمیر ڈیجیٹل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ میراصدر ریاست نجیب نقی اور وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کیساتھ ذاتی تعلق ہے اور سیاسی بھی ہے۔ہماری تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں لیکن ہمارے دورے تربیتی دورے ہیں، مختلف اوقات میں ہم بیرون ممالک گئے ہیں ، لوگ جو مرضی رنگ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہرآدمی کی شخصیت کے اپنے اپنے پہلو ہیں، ہم تینوں کا عہدوں پر براجمان ہونا اتفاق زمانہ ہے۔ہم تینوں نے مل کر کام کیا ہے اور ہمیں ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ پارٹی کی قیادت نے سوچ سمجھ کرکیا ہے ،نواشریف کے فیصلوں میں حکمت،کلیئرٹی اور مستقبل کا نقشہ بھی ہے۔

3سابق وزرائے اعظم کو شکست سے سبق سیکھنا چاہہے

سپیکر قانون سازاسمبلی کا 3سابق وزرائے اعظم کو انتخابات میں شکست کےسوال پر کہنا تھا کہ عوام الناس کی سوچ وفکرپر اعتماد و بھروسہ کرنا چاہئے، کامیابی وناکامی کسی ایوان میں جانے کا پیمانہ ہے لیکن سیاست میں زندہ رہنے کیلئےآپ کا کردار اور بیانیہ میٹر کرتا ہے، سیاست میں جب ان چیزوں پر کمپرومائز کیا جائیگا تو عوام بہترین جج بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے فیصلے کو مدنظر رکھنا چاہئے، فتح وشکست عارضی عمل ہے،سمجھدار لوگ ناکامی سے سبق سیکھتے ہیں اور آگے کا راستہ طے کرتے ہیں، میرانہیں خیال کہ جولوگ کسی نہ کسی وجہ سے ناکام ہوئےہیں تو اپنے آپ کو درست کرلیں گے تو آنیوالادرست ان کیلئے ٹھیک ہو سکتا ہے۔

ذاتیات کی سیاست، باربار وزرائے اعظم تبدیلی سے اپوزیشن کا تصورختم ہوجا تا ہے
چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کےاندر اس بات کی تفہیم تو ہونی چاہیے کہ جوکردار انہیں سونپا گیا ہے، اقتدارکی شکل میں یا حزب اختلاف کی شکل میں اس کے کیا تقاضے ہیں ، جب ان تقاضوں سے ہٹ کر آپ ذاتی تقاضوں کے گرد گھومتے رہیں تو عوام بعض اوقات اسے قبول نہیں کرتے۔

اپوزیشن کا کردار یہی ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھے اورعوام کو بھی بتائے کہ یہ وعدے پورے نہیں کررہے ہیں، اس کے باوجود آپ ذاتیات کی سیاست شروع کردیں ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں، مختلف سہارے تلاش کریں تو اپوزیشن کا تصورختم ہوجاتا ہے، ماضی میں اچھی پوزیشن رہی ہے۔جب بار بار وزرائے اعظم کو تبدیل کیا جاتا ہے اپوزیشن کا تصورختم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ ایک غیر حقیقی اور غیر فطری عمل کے سہارے آگے آئیں تو فطرت کا اپنا عمل ہے،فطرت آپ کی پابندنہیں، عوام فطرت کے مطابق ہی چلتے ہیں،فرینڈلی اپوزیشن عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کرسکتی ہے۔

آئین میں ترامیم ضروری، حکومت اپوزیشن مل بیٹھیں
سابق صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود کی رحلت کے بعد صدارتی انتخابات میں تاخیر کے سوال پر چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ آئین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس پر غور کرناچاہیے، آئین میں ترمیم لانی چاہیے، اس کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر حل کرنا

پورا آزادکشمیر برابر،علاقوں کی بنیاد پر سیاست نہیں ہونی چاہیے
ایک سوال کے جواب میں چوہدری طارق فاروق پورا آزادکشمیر برابر ہے، علاقوں کی بنیاد پر گفتگو نہیں ہونی چاہئے، آزادکشمیر کے سب لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہیں،پولیٹیکل سسٹم مضبوط ہوتو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کس جگہ سے آیا ہے اور ڈویژن پیدا ہوتی ہے، اس پر احتیاط سے کام لینا چاہئے

کوشش ہے راولاکوٹ احتجاج کا سیاسی بنیادوں پرآئین کے اندر رہتے ہوئے حل نکالا جائے 
چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ صدر ریاست ڈاکٹر نجیب نقی صدر بننے سے قبل بھی راولاکوٹ دھرنے کا معاملہ حل کرنے کی کوشش کررہے تھے اور صدر بننے کے بعداب تیزی سے اس پر بات چیت کی جا رہی ہے اور کوشش ان کی یہی ہے مذاکرات سے ہی معاملے کا مثبت حل نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ریاست کے اندرون ملک اور بیرون ملک رابطے ہو رہے ہیں، باقی لوگ بھی رابطےکررہے ہیں، کوشش یہی ہے کسی نہ کسی طرح سے معاملے کا سیاسی بنیادوں پرآئین کے اندر رہتے ہوئے معاملے کا حل نکالا جائے۔

چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ کا پارٹی سے تعلق ہونا ضروری نہیں، شاہ غلام قادرپارٹی اجلاس بلائیں، ذمہ داری پوری کریں
سپیکر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ صدر مسلم لیگ ( ن) شاہ غلام قادر نے چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ تعیناتی کے حوالے سے کوئی بات کی ہے تو یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ کوئی شخص پارٹی پالیسی کے مطابق نہیں چل رہا تو وہ اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انوسٹمنٹ بورڈ کے چیئرمین کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،ا س کیلئے چیمبر آف کامرس سے منسلک ہونا،انویسٹمنٹ لانے والا، کاروبار ، ٹورازم کو فروغ دینا والا ہونا ضروری ہے۔

طارق فاروق کا کہنا تھاکہ یہ تو اتفاق کی بات ہے کہ انجینئر رضوان مسلم لیگ(ن) یوتھ ونگ بھمبر، میرپور کے صدر رہے ہیں، شاہ غلام قادر کے ہوتے ہوئے ان کے پاس پارٹی کا عہدہ نہیں تھا لیکن وہ پارٹی کیساتھ منسلک ہیں۔شاہ غلام قادر صاحب نے جس وجہ سے اعتراض کیا ہے وہ یہ پارٹی فورم پر رکھیں۔

طارق فاروق نےسوال اٹھایا کہ اب تو مجھے یہ کہنا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے اقتدار کو دہ ماہ ہو چکے ہیں،پارٹی اجلاس ہونے چاہئے، بار ہامیں نےشاہ غلام قادر سےریکوسٹ کی کہ پارٹی کا اجلاس ہونا چاہئے لیکن انہیں بطور صدر مسلم لیگ(ن) اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔

مجاہد منزل میٹنگ، شاہ غلام قادر ، فاروق حیدر نے پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا
مجاہد منزل میں سابق صدور اوروزرائے اعظم وسیاسی قیادت کی میٹنگ کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہنا تھا کہ صدر جماعت شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے اس حوالے سے پارٹی کو اعتماد میں نہیں کیا۔

بنیادی طور پر ایک پارٹی کے صدرا وردوسرے سابق صدر ہیںتو اس طرح کی ایکٹویٹی کا پارٹی کوعلم ہونا چاہیے، وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں، یقیناً ان کی نیت اچھی ہوگی وہ بہتر سوچ رہے ہیں،ان کی ملاقاتوں کے حوالے سے منفی تاثر نہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ن) کے صدورکے علاوہ باقی لوگ بھی تھے اور باقی بھی ذمہ دار لوگ ہیں، اس سے بہتر لائحہ عمل ہی سامنے آئیگا۔

ایوان کی کمیٹیاں احتساب کیلئے ضروری، وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر نے نام نہ دیئے تواپنا کام کرونگا

سپیکر کاکہنا تھا کہ ایوان کی قائمہ کمیٹیاں ہی احتساب کیلئے ضروری ہیں،یہ کمیٹیاں فنکشنل ہونے سے اس سے جمہوری نظام کو فائدہ پہنچتا ہےاور احتساب کے نظام کو بھی فائدہ پہنچتا ہے،پچھلے عرصہ میں حکومتوں نے اس سے راہ فرار اختیار کی ہے کیونکہ وہ جوابدہی کیلئے تیار نہیں تھے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افتخار گیلانی کالعدم ایکشن کمیٹی کا معاملہ جلد حل کرلیں گے، اسپیکر طارق فاروق

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت افتخار گیلانی کی قیادت میں جوابدہی کیلئے تیار ہے،میں نے اسمبلی میں گزارش کی ہے کہ کمیٹیوں کیلئے نام دیئے جائیں ، میں نے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کو خطوط بھی لکھے ہیں، میں خاص وقت تک انتظار کرونگا اگر نام نہ بھیجے گئے تو پھر میں نے اپنا کام کرنا ہے۔

کشمیریوں نے کبھی بھارت کا غاصبانہ قبضہ قبول نہیں کیا
سپیکر قانون سازاسمبلی کا کہنا تھا کہ 1947سے اب تک کشمیریوں نے بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اس میں پھانسیاں بھی دی گئیں ، گرفتاریاں ہوئیں لیکن بھارت ہمیں ناکام رہا ہے، اب اگر جمعہ کے خطبہ پر بھی زبردستی کی جا رہی ہے تو اس میں بھی ناکام ہی ہوگا۔