اسپیکر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ افتخار گیلانی نوجوان سیاسی رہنما ہیں اور انہوں نے ماضی میں بحیثیت وزیر ڈیلیور کرکے دکھایا، ریاست میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا معاملہ جلد حل کرلیں گے۔
نجی چینل وی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں چوہدری طارق فاروق نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات، حکومت سازی، اپنی بطور اسپیکر نامزدگی، وزیراعظم کے 100 روزہ منصوبے، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات، کشمیر کونسل، بھارت کی پالیسی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
’مین آف دی میچ‘ کا تاثر درست نہیں:
اپنی کامیابی اور حکومت سازی میں کردار کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ یہ اللہ کی کرم نوازی ہے اور وہ اپنی پارٹی اور قائد نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پارٹی کو مکمل اونرشپ دی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے اعتماد کے نتیجے میں انہیں یہ ذمہ داریاں ملیں اور یہ عہدے عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کے بقول قیادت کا اعتماد اور پارٹی کی اونرشپ ہی آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں وہ ’مین آف دی میچ‘ ہیں۔
چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ان کا کسی کے ساتھ ایسا کوئی میچ نہیں پڑا۔ راجا فاروق حیدر ان سب میں عمر، عہدے اور مقام کے لحاظ سے سینیئر ہیں اور 2 مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، جبکہ باقی لوگ ایک ہی سطح پر دوست اور ایک ٹیم کی طرح کام کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پلندری کے عوام کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف سڑکوں پر آگئے، امن کی خواہش کا اظہار، پاک فوج کے حق میں نعرے
انہوں نے کہاکہ وہ پہلے مسلم کانفرنس میں اکٹھے کام کرتے رہے اور 2010 کے بعد مسلم لیگ (ن) میں بھی ساتھ کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض دوستوں کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے اور تربیتی کورسز میں ایک ساتھ جانے سے قربت پیدا ہوجاتی ہے، دنیا اسے جو نام دینا چاہے دے سکتی ہے۔
پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کی نامزدگی:
پارٹی کے اندر اختلافات اور شاہ غلام قادر کی ناراضی کے حوالے سے سوال پر اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی نے کہا کہ شاہ غلام قادر نے پارٹی کی کامیابی کے لیے محنت اور کوشش کی اور وہ اب بھی جماعت کے صدر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ افتخار گیلانی کی وزیراعظم نامزدگی پر شاہ غلام قادر نے جس جگہ اور جس انداز میں اپنی بات رکھی وہ مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق شاہ غلام قادر اب بھی ان کے دوست ہیں اور وہ انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ناراضی کے بجائے اپنوں سے گلہ ہوتا ہے اور وہ گلہ اپنی جگہ ہوسکتا ہے، تاہم ملاقاتیں اور مصافحے ہوچکے ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ یہ گلے دلوں میں باقی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بڑی ذمہ داری کا آپ پر نہ آنا بھی ایک نعمت ہوتی ہے، کیونکہ آدمی اپنا کام بہتر طریقے سے کرتا رہتا ہے۔
اپنی، وزیراعظم اور صدر آزاد کشمیر کی نامزدگی میں مریم نواز یا نواز شریف کے کردار سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ فیصلہ پارٹی قیادت کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف پارٹی کی قیادت کا حصہ ہیں، جبکہ مریم نواز پارٹی کی چیف آرگنائزر ہیں۔
انتخابات اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات:
آزاد کشمیر کے انتخابات پر اعتراضات اور 7 حلقوں میں پولنگ نہ ہونے سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ انتخابات سے قبل آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری آئینی طریقہ کار کے تحت ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، اس لیے ان علاقوں کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں انتخابات کرائے جائیں۔ ان کے مطابق باقی علاقوں میں انتخابات ہوئے اور معمولی نوعیت کی ناراضیاں اور تلخیاں ہر انتخاب میں ہوتی ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور عوامی شکایات کے حل سے متعلق چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ موجود ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ مطالبات کا جواز کتنا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس معاملے میں موجود ہیں وہ آزاد جموں کشمیر کے باسی ہیں اور ان میں مختلف خیالات اور نظریات رکھنے والے لوگ شامل ہیں، اس لیے انہیں ایک سطح پر لانا بھی ایک چیلنج ہے۔ چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ حکومت میڈیا میں آئے بغیر اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور جلد قوم کو اچھی خبر سننے کو ملے گی۔
مزید پڑھیں: بھمبر: خصوصی بچوں نے وزیراعظم افتخار گیلانی کے قافلے پر پھول نچھاور کردیئے
وزیراعظم کا 100 روزہ منصوبہ اور نواز شریف کی نگرانی:
وزیراعظم آزاد کشمیر کے 100 روزہ منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے سوال پر اسپیکر نے کہا کہ کوئی کام دنیا سے مخفی نہیں رہ سکتا اور خاص طور پر میڈیا کی موجودگی میں تو ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں گورننس اور ترقی کا جو ماڈل ہے اسے آزاد کشمیر میں نافذ کیا جائے گا۔
چوہدری طارق فاروق کے مطابق پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے جبکہ آزاد کشمیر تقریباً 4 ہزار مربع میل پر مشتمل خطہ ہے اور اس کے 10 اضلاع ہیں، اس لیے پنجاب کے گورننس ماڈل کو آزاد کشمیر میں نافذ کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے اس ماڈل کی تیاری میں مدد کی جبکہ فنڈز پاکستان کی حکومت فراہم کر رہی ہے۔
نواز شریف کی جانب سے ہر تین ماہ بعد آزاد کشمیر آکر کارکردگی رپورٹ لینے کے اعلان کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ قیادت کا حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنا اچھی بات ہے۔ انہوں نے نواز شریف کو موٹرویز کے منصوبوں کے حوالے سے بھی سراہا اور کہا کہ پوری دنیا ایک آدمی کی دور اندیشی کو تسلیم کرتی ہے۔
بھارت کی پالیسی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کا حقِ خودارادیت:
بھارت کی جانب سے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے خدشات سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ پاکستان بننے کے بعد سے بھارت نے پاکستان، آزاد کشمیر یا کشمیری عوام کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں، تاہم بھارت کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکا۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام پیغام دیتے ہوئے اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی نے کہا کہ انسانی حقوق اور سیاسی حقوق کے لیے گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کا معاملہ سادہ ہے، تاہم دنیا طویل عرصے تک تجارت اور اپنے مفادات کے گرد گھومتی رہی اور مختلف علاقوں میں ہونے والی انسانی زیادتیوں کو اس طرح نہیں دیکھا گیا جس طرح دیکھنا چاہیے تھا۔
چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے عوام کے نمائندے کے طور پر بات کررہے ہیں، جنہیں ابھی تک حقِ خودارادیت کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کا موقع ملنا چاہیے۔




