بھارت چھوڑنے کا حکم، اداکار عمرا ن خان کا عدالت سے رجوع کا فیصلہ

بالی ووڈ اداکار اور عامر خان کے بھانجے ونامور اداکار عمران خان کو ممبئی پولیس نے 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کردیا ہے جس پر اداکار نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی بھارت میں جاری چیف الیکشن کمشنر کے استعفے لیے ہونے والے احتجاج میں شرکت کے بعد کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرے

ممبئی پولیس کے مطابق عمران خان نے ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی تھی جہاں مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس احتجاج کے دوران پولیس نے عمران خان کو حراست میں بھی لیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان بھارتی شہری نہیں ہیں اس کے باوجود احتجاج میں شرکت کرنے پر ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

 پولیس کی جانب سے جاری نوٹس میں انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر بالی وڈ اداکار عمران خان نے بھارت چھوڑنے سے متعلق حکام کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اداکار کی قانونی ٹیم اس معاملے پر بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ممبئی پولیس نے عمران خان کو مبینہ طور پر غیر ملکی شہریت اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی ماہرین کی پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے پرکڑی تنقید

دوسری جانب اداکار کے وکلا کا کہنا ہے کہ متعلقہ قوانین کے تحت احتجاج میں شرکت کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی مؤقف کی بنیاد پر ان کی قانونی ٹیم نے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس اور امیگریشن حکام کی جانب سے جاری نوٹس میں عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب ان کے وکلا اس حکم کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔