مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے مسلسل ہڑتالوں اور دھرنوں کے باعث یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر (UAJK) کے طلبہ و طالبات کو تعلیمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےجبکہ تدریسی سرگرمیوں میں تعطل سے طلبہ کی تعلیمی پیشرفت اور مستقبل کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ا
تعلیمی سرگرمیاں متاثر
مسلسل ہڑتالوں اور دھرنوں کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ تدریسی عمل میں بار بار رکاوٹیں آنے کے نتیجے میں نصاب کی بروقت تکمیل، تعلیمی تیاری اور طلبہ کی مجموعی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
طلبہ کے مستقبل پر تشویش
طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیم کا شعبہ پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں مسلسل تعلیمی تعطل ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹیں طلبہ کی تعلیمی پیشرفت کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کے منصوبوں اور کیریئر پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
اعلیٰ حکام سے اقدامات کا مطالبہ
طلبہ و طالبات نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مسائل اور مطالبات کے حل کے لیے ایسے پُرامن اور متبادل راستے اختیار کیے جائیں جن سے تعلیمی اداروں کا نظام متاثر نہ ہو اور طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے یکساں مواقع میسر رہیں۔
تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنے کی اپیل
طلبہ نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کا حل تلاش کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے معمولات اور نوجوانوں کے مستقبل کو بھی اہمیت دی جائے۔ ان کے مطابق احتجاج اور مطالبات کے لیے ایسے طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے جن سے تعلیمی نقصان کم سے کم ہو اور تدریسی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:راولا کوٹ : کالعدم ایکشن کمیٹی کا ریاست گیر لاک ڈاؤن سے متعلق اجلاس بے نتیجہ ختم
طلبہ کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام اور تمام فریقین باہمی مشاورت سے ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے ساتھ طلبہ کے تعلیمی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔




