مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)کالعدم ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے کی جانے والی ہڑتالوں اور دھرنوں کے باعث یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر (UAJK) کے طلبہ و طالبات کو تعلیمی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
طلبہ نے تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے باعث ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور تدریسی عمل متاثر ہونے سے تعلیمی پیشرفت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرا کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں: شاہزیب اشتیاق
طلبہ کا کہنا ہے کہ شعبۂ تعلیم پہلے ہی مختلف مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں مسلسل ہڑتالوں اور دھرنوں سے ان کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے ساتویں سمسٹر کے طالب علم شاہزیب اشتیاق نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ JAAC کی ہڑتالوں اور دھرنوں سے طلبہ کا تعلیمی سیشن بری طرح متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں، وہ اس کے رکن نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس کی کسی سرگرمی میں حصہ لیا ہے۔
طلبہ و طالبات نے اربابِ اختیار اور متعلقہ حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ایسے معقول اور پُرامن طریقے اختیار کیے جائیں جن سے تعلیمی اداروں کا تدریسی نظام متاثر نہ ہو اور طلبہ کو مزید تعلیمی نقصان سے بچایا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریاست کے تاجروں کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے سمارٹ لاک ڈاؤن سے کوئی تعلق نہیں
ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا طلبہ کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔




