کویت میڈیکل کمپلیکس، درد مند دلوں کیلئے مرہم

تحریر : شایان رضا بیگ

پندرہ بیس سال قبل کی بات ہے جب زندگی اتنی آسان نہیں تھی سکردو اور گرد و نواح کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بنیادی سہولیات کا شدید فقدان تھا لوگوں کو بنیادی سہولیات بالخصوص علاج و معالجہ کے سلسلے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، اگر کسی کو معمولی بھی صحت حوالے سے مشکلات پیدا ہو جاتے تو لوگ نہ صرف علاج و معالجہ بلکہ چھوٹی چھوٹی ضروریات کیلئے بھی تڑپتے تھے اور جب کوئی بیمار ہو جائے تو انہیں شہروں تک لے جانے کیلئےناکافی سہولیات اور کافی مشکلات اُٹھانا پڑتی تھی کیونکہ گائوں سے شہر کی طرف جانے کیلئے جہاں سفری اخراجات سمیت دیگر راستے بھی انتہائی خطرناک دشوار تھے وہاں پہاڑی علاقوں کے پرخار راستوں سے گزرتے ہوئے ذکر خدا جاری رہتا تھا کہ کہیں اس دشوار گزار راستے سے ساتھی بھی کسی حادثے کا شکار نہ ہوجائیں۔

لیکن راستے کی مشکلات سے کہی مریض کی شہر پہنچنے سے پہلے ہی جان چلی جاتی تھی جبکہ کچھ زیر علاج رہ کر بھی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی کیونکہ ان مریضوں کو ایک طرف وقت پر مناسب علاج نہ مل پاتا جبکہ دوسری جانب کچھ لوگوں کو شہر جانے کےلیے اخراجات بھی تیار کرنے پڑتے کیونکہ شہر سفر کے اخراجات غریب کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ۔۔

​آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔ معروفی فاؤنڈیشن اور کویت میڈیکل کمپیلیکس کی بے لوث خدمات اور مرہونِ منت اب عوام کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں رہی اور ایک چھت تلے عوام کو صحت حوالے سے بنیادی سہولیات 24 گھنٹہ میسر ہے ، وہی تمام طبی سہولیات جو کبھی خواب معلوم ہوتی تھیں، اب کویت میڈیکل کمپلیکس اور معرفی فائونڈیشن کے زیر نگرانی عوام کو اپنے گھر کے دہلیز پر  انتہائی مناسب اخراجات پر میسر ہیں۔ یہ صرف ایک سہولت نہیں، بلکہ انسانیت کی وہ سچی خدمت ہے جس نے غریب اور بے بس انسانوں کے دلوں میں امید اور زندگی کی نئی کرن جگا دی ہے ۔

گلگت بلتستان کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے صحت کی اعلیٰ سہولیات کا حصول ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے گردے یا مثانے کی پتھری جیسے عارضے کا علاج کروانے کے لیے مریضوں کو نہ صرف درد جھیلنا پڑتا تھا، بلکہ اسلام آباد، راولپنڈی یا لاہور جیسے دور دراز شہروں کا ایک لمبا سفر طے کرکے جانا پڑتا تھا جبکہ سفری اخراجات شہر میں رہائش کے مسائل اور پھر ہسپتالوں کے بھاری میڈیسن اور دیگر معاملات کی پریشانی الگ تھی ان تمام چیزوں سے ایک عام لوگوں کی کمر توڑ رکھتے تھے سال بھر کی جمع پونجی اگر اللہ نہ کرے ایسے کسی بڑے کیسز کی وجہ سے شہر جانا پڑے تو یقینا پیچھے بیٹھے گھر والوں کے پاس کچھ رہ ہی نہیں جاتے ۔۔

​لیکن کویت میڈیکل کمپلیکس سکردو انتظامیہ اور معرفی فاٶنڈیشن کے زیر نگرانی ماہ اکتوبر 2026 کے اس پہلے ہفتے میں کویت میڈیکل کمپلیکس سکردو میں جو کچھ ہوا، وہ کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ لاہور کے نامور ماہرین اور پروفیسروں کی ٹیم ڈاکٹر اسد اللہ اور ڈاکٹر اعجاز کی قیادت میں جدید ترین لیزر مشین کے ذریعے کویت میڈیکل کمپلیکس سکردو میں 3 اکتوبر سے 8 اکتوبر 2026 تک گردے اور مثانے کے متعدد مریضوں کے کامیاب آپریشن کیے جنہیں بغیر کسی بڑے چیرے اور بغیر طویل بیڈ ریسٹ کے ،

پاکستان کے معروف ہسپتال (PKLI) لاہور کے ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آپریشن کیے جس سے مریض چند دنوں میں صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹے ۔

​طبی دنیا کا ایک معروف مقولہ ہے کہ مریض کے لیے ادویات سے زیادہ طبی عملے کا حسنِ اخلاق اور ہسپتال کا پرسکون ماحول دوائی کا کام کرتا ہے۔ اس کیمپ کی خاص بات کویت میڈیکل کمپلیکس سکردو کا صاف ستھرا اور پرسکون ماحول، اور وہاں کے عملے کا انتہائی بااخلاق اور مہربان رویہ تھا، جس نے مریضوں کو یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی ہسپتال میں موجود ہیں ۔

معرفی فاؤنڈیشن اور کویت میڈیکل کمپلیکس سکردو انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہے کہ جنہوں نے PKLI جیسے قومی معیار کے ادارے کی خدمات کو سکردو تک پہنچایا۔ یہ محض ایک فری یا رعایتی کیمپ نہیں تھا، بلکہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے ان انسانوں کی عزتِ نفس کی بحالی کا ذریعہ تھا جو پیسے یا سفری مشکلات کے باعث اپنی بیماریاں چپ چاپ سہتے رہتے تھے۔

بلتستان میں اگر اسی طرح کا جذبہِ خدمت، بااخلاق عملہ اور جدید ٹیکنالوجی یکجا ہو جائے، تو یہاں کے عوام کو علاج و معالجہ کے لیے کبھی اپنے گھروں کو چھوڑ کر دور دراز شہروں میں جانا نہیں  پڑے گا ، معروفی فاؤنڈیشن اور کویت میڈیکل کمپلیکس سکردو انتظامیہ کے اس کاوش کو سلام ، جو درد مند دلوں کے لیے مرہم اور بلتستان کے عوام کے لیے شفاء کی نئی نوید بن کر آئی ۔۔۔