امریکا میں اے آئی سے نقل کا بحران، 95 فیصد طلبہ چیٹ بوٹ استعمال کرنے لگے

واشنگٹن : آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے امریکا میں نقل کے بحران کو شدید اور سنگین کر دیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں طالب علموں کے درمیان مصنوعی ذہانت کا استعمال حد سے زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔

تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق 95 فیصد طلبہ اپنے اسائنمنٹ اے آئی چیٹ بوٹ سے لکھوانے لگے ہیں۔ اس صورتحال کے سبب اساتذہ شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ طلبہ کچھ بھی “سیکھنے” کے بجائے صرف “سیکھنے کی خوش فہمی” میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپین حکومت کا پاکستانی طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے مالی معاونت کا اعلان

ہیومنائزنگ اے آئی پروگرامز اور اساتذہ کے چیلنجز:

نئے “ہیومنائزنگ” اے آئی پروگرامز اب تحریروں کو پہلے سے زیادہ مستند اور فطری بنانے لگے ہیں۔ ان جدید صلاحیتوں کی وجہ سے اساتذہ کے لیے کسی بھی تحریر میں اے آئی کے استعمال کو پکڑنا اور اس کی نشاندہی کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

“ڈیٹیکٹرز بمقابلہ ایویڈرز” کی جنگ:

محققین اور ریسرچرز کے مطابق اساتذہ انسانی اور چیٹ بوٹ کی تحریر کو الگ کرنے یا پکڑنے کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ محققین نے واضح کیا ہے کہ اساتذہ “ڈیٹیکٹرز بمقابلہ ایویڈرز” کی اس جنگ کو باضابطہ طور پر ہار چکے ہیں۔