سفیر رضا چغتائی
8 اکتوبر 2005ء، صبح 8 بج کر 52 منٹ ۔۔۔۔۔۔ زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد آنے والے شدید زلزلے کے جھٹکے آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنیں گے۔
ایک بزرگ عینی شاہد آج بھی اس صبح کو یاد کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں اس دن کی کیفیت صاف محسوس ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “صبح کا وقت تھا۔ اچانک زمین ہلنا شروع ہوئی۔ پہلے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن پھر جھٹکے اتنے شدید ہو گئے کہ عمارتیں لرزنے لگیں۔ لوگ گھبرا کر باہر نکل رہے تھے۔ جب زمین کچھ پرسکون ہوئی تو ہمیں اندازہ ہوا کہ بہت کچھ بدل چکا ہے۔ ہر شخص اپنے گھر والوں کو تلاش کر رہا تھا۔ کوئی بچوں کو ڈھونڈ رہا تھا، کوئی والدین کو۔ جہاں سے کسی کے زندہ ہونے کی آواز آتی، ہم ملبہ ہٹانے لگتے۔ ہمارے پاس کوئی خاص سامان نہیں تھا، بس جو ہاتھ میں آتا اسی سے کام لیتے۔ کئی لوگوں کو نکالا، کئی کو نہیں نکال سکے۔ کچھ آوازیں ایسی تھیں جو آج بھی یاد ہیں۔ اس دن محسوس ہوا کہ چند لمحے انسان کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔”
دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی۔ اس کے شدید اثرات آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سامنے آئے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 73 ہزار 338 افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 28 ہزار 304 شدید زخمی ہوئے۔ تقریباً 30 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تباہی کے اثرات رپورٹ ہوئے، جبکہ تقریباً چھ لاکھ مکانات کے تباہ یا شدید متاثر ہونے کے اعداد بھی سرکاری دستاویزات میں درج ہیں۔ان اعداد کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں تھیں۔ بہت سے خاندان اپنے گھروں سے محروم ہوئے، بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز متاثر ہوئے، جبکہ سڑکوں، پلوں، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ مختلف سرکاری اور عالمی جائزوں میں متاثرہ اور بے گھر افراد کے اعداد میں فرق ملتا ہے، تاہم اس بات پر اختلاف نہیں کہ انسانی اور مادی نقصان غیر معمولی پیمانے پر تھا۔
زلزلے کے فوراً بعد سب سے بڑا چیلنج متاثرہ لوگوں تک پہنچنا تھا۔ سڑکیں اور رابطے کے راستے کئی مقامات پر متاثر ہوئے تھے، پہاڑی علاقوں میں بستیاں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور بعض مقامات تک زمینی رسائی مشکل ہو چکی تھی۔ ایسے وقت میں ملبے کے نیچے دبے لوگوں کے لیے ہر گزرتا لمحہ قیمتی تھا۔پاکستان کی مسلح افواج، سرکاری اداروں، طبی ٹیموں، مقامی رضاکاروں، فلاحی تنظیموں اور عام شہریوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ پاک فوج کے جوان متاثرہ علاقوں میں پہنچے، زخمیوں کو نکالنے، لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے اور امدادی سامان پہنچانے کے کام میں شریک ہوئے۔ جہاں زمینی راستے بند تھے، وہاں فضائی ذرائع سے بھی امداد پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کشمیری عوام نے اپنے اردگرد صرف تباہی نہیں دیکھی، بلکہ پورے پاکستان سے مدد کے ہاتھ اپنی طرف بڑھتے ہوئے بھی دیکھے۔ ملک کے مختلف حصوں سے لوگ امدادی سامان لے کر پہنچے۔ کسی نے خیمہ دیا، کسی نے کمبل، کسی نے خوراک، کسی نے دوا اور کسی نے اپنی خدمات پیش کیں۔ فلاحی تنظیموں، ڈاکٹروں، انجینئروں، رضاکاروں اور عام شہریوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کیا۔ یہ مدد صرف سامان کی منتقلی نہیں تھی۔ اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کے دکھ میں شریک ہونے کا جذبہ بھی نمایاں تھا۔ بہت سے پاکستانی خاندانوں نے اپنے وسائل میں سے متاثرین کے لیے حصہ نکالا۔
پاکستان کے مختلف شہروں سے امدادی سرگرمیاں ہوئیں، بیرون ملک پاکستانیوں اور عالمی اداروں نے بھی معاونت کی۔ یوں 8 اکتوبر کی تباہی کے درمیان ایک ایسا انسانی رشتہ بھی نمایاں ہوا جس میں فاصلے، علاقے اور پہاڑ معنی کھو بیٹھے تھے۔ پاک فوج کے جوانوں کی موجودگی بھی اس مشکل وقت کی ان یادوں کا حصہ بن گئی۔ ملبے کے ڈھیروں میں تلاش، زخمیوں کی منتقلی، دشوار گزار علاقوں تک رسائی اور متاثرین تک امداد پہنچانے کے مناظر آج بھی بہت سے خاندانوں کو یاد ہیں۔ کشمیری عوام کے لیے یہ صرف ایک امدادی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے وقت کی یاد تھی جب مصیبت کی گھڑی میں مدد کا ہاتھ ان تک پہنچا۔حکومت پاکستان نے مرکزی سطح پر امدادی کاموں میں باہمی رابطے کے لیے وفاقی امدادی کمیشن قائم کیا، جبکہ بعد میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے زلزلہ بحالی و تعمیرِ نو کا ادارہ ” ایراء” قائم کیا گیا۔ اس کے بعد امداد کا مرحلہ بتدریج ایک بہت بڑے تعمیرِ نو کے سفر میں تبدیل ہوا۔
ابتدائی مرحلے میں زخمیوں کی منتقلی، خوراک، خیموں، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی اہم ترجیحات تھیں۔ لیکن جب ہنگامی صورتحال کچھ کم ہوئی تو ایک بہت بڑا سوال سامنے کھڑا تھا: جن لوگوں کے گھر نہیں رہے، وہ کہاں جائیں گے؟ جن بچوں کے سکول ملبے میں تبدیل ہو گئے، ان کی تعلیم کیسے جاری رہے گی؟ جن علاقوں کے راستے اور پل ٹوٹ گئے، وہاں زندگی دوبارہ کیسے پہنچے گی؟ یوں ریسکیو کے بعد بحالی کا مرحلہ شروع ہوا اور بحالی کے بعد ایک وسیع تعمیرِ نو کا سفر۔
تعمیرِ نو صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ لگانے کا نام نہیں تھا۔ اس کا مقصد ان خاندانوں کو دوبارہ زندگی کی طرف لانا تھا جن سے ایک ہی دن میں گھر، روزگار، سکول، علاج اور آمدورفت کی سہولتیں چھن گئی تھیں۔ گھروں کی تعمیر، سکولوں اور صحت کے مراکز کی بحالی، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، پانی کی فراہمی اور روزگار کے ذرائع کی بحالی اس بڑے عمل کا حصہ بنے۔
زلزلے سے متاثرہ آزاد کشمیر کے علاقوں میں ہونے والے نقصان کے مقابلے میں تعمیرِ نو کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 225 ارب روپے کا پروگرام بنایا گیا۔ دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس پروگرام کے تحت تقریباً 181 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مختلف زیرِ تکمیل اور باقی منصوبوں کے لیے مزید تقریباً 44 ارب روپے درکار ہیں۔تعمیرِ نو کا دائرہ بھی غیر معمولی طور پر وسیع تھا۔ تعلیم، صحت، سرکاری عمارتوں، رہائش، روزگار، بجلی، مواصلات، سڑکوں، پلوں اور پانی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں ہزاروں منصوبے شروع کیے گئے۔ دستیاب سرکاری اعداد کے مطابق مجموعی طور پر 7,608 منصوبے تعمیرِ نو کے پروگرام میں شامل رہے، جن میں 5,892 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، 905 زیرِ تکمیل ہیں جبکہ 811 منصوبے ابھی شروع نہیں ہو سکے۔ان منصوبوں میں تعلیم کا حصہ سب سے نمایاں رہا۔ تعلیم کے شعبے میں 2,718 منصوبے شامل تھے، جن میں 1,620 مکمل، 501 زیرِ تکمیل اور 597 ابھی شروع نہیں ہوئے۔ پانی کی فراہمی سے متعلق 2,795 منصوبے شامل تھے، جن میں 2,714 مکمل ہو چکے ہیں۔ روزگار اور زراعت و باغبانی سے متعلق 1,426 منصوبے، صحت کے 160 منصوبے، سرکاری عمارتوں کے 223 منصوبے، رہائش سے متعلق 128 منصوبے اور سڑکوں و پلوں کے 138 منصوبے بھی اس بڑے تعمیرِ نو کے پروگرام کا حصہ رہے۔یہ اعداد محض کاغذ پر درج منصوبوں کی تعداد نہیں۔ ہر منصوبے کے پیچھے کسی نہ کسی خاندان کی ضرورت، کسی بچے کی تعلیم، کسی مریض کا علاج، کسی بستی تک پہنچنے والا راستہ یا کسی گھر میں دوبارہ آنے والی زندگی موجود تھی۔جس سکول کی عمارت زلزلے میں گر گئی تھی، وہاں دوبارہ کلاس روم بنانا صرف ایک عمارت کھڑی کرنا نہیں تھا؛ اس کا مطلب بچوں کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانا تھا۔
جس علاقے میں پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا تھا، وہاں نئی سہولت پہنچانا صرف پائپ بچھانا نہیں تھا؛ اس کا مطلب لوگوں کی روزمرہ زندگی کو دوبارہ معمول پر لانا تھا۔ جس سڑک یا پل کو زلزلے نے توڑ دیا تھا، اسے دوبارہ تعمیر کرنا دور دراز بستیوں کو دوبارہ ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔گھروں کی تعمیر میں بھی کوشش کی گئی کہ دوبارہ بننے والے مکانات پہلے سے زیادہ محفوظ ہوں۔ متاثرہ خاندانوں کو مالی مدد اور تعمیر کے بہتر طریقوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی گئی۔ بعض علاقوں میں لکڑی اور پتھر کے مقامی تعمیراتی طریقوں کو زلزلہ برداشت کرنے والے نئے اصولوں کے ساتھ استعمال کیا گیا تاکہ مقامی ضرورت اور مستقبل کے خطرے دونوں کو سامنے رکھا جا سکے۔ یہ عمل نہ مختصر تھا اور نہ آسان۔ پہاڑی علاقوں کا جغرافیہ، دور دراز آبادیاں، تباہ شدہ راستے، سرد موسم اور بڑے پیمانے پر تعمیر کی ضرورت نے بحالی اور تعمیرِ نو کو ایک طویل سفر بنا دیا۔ اس دوران بہت سے منصوبے مکمل ہوئے، کئی علاقوں میں گھر دوبارہ آباد ہوئے، سکول اور صحت کے مراکز بحال ہوئے، سڑکیں اور پل تعمیر ہوئے، پانی کی سہولیات واپس آئیں لیکن ہر علاقے اور ہر منصوبے کی رفتار یکساں نہیں رہی۔یہی وجہ ہے کہ اکیس برس بعد بھی تعمیرِ نو کی کہانی مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ باقی کاموں کی کہانی بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق سینکڑوں منصوبے اب بھی زیرِ تکمیل یا باقی ہیں اور ان کے لیے مزید وسائل درکار ہیں۔ تعمیرِ نو کا یہ سفر آج بھی بعض علاقوں میں جاری ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق جون 2026ء میں زلزلہ بحالی و تعمیرِ نو کے ادارے کو ایک ارب روپے فراہم کیے گئے تاکہ 80 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہو جانے والے منصوبوں کو مکمل کیا جا سکے۔ اس رقم سے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں 67 تعلیمی اداروں کی تکمیل کا کام آگے بڑھایا گیا، جن میں 14 منصوبے مکمل ہو کر متعلقہ محکموں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 53 منصوبے دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ منصوبے آزاد کشمیر حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کا حصہ بھی بتائے گئے ہیں، جس کا مقصد زیرِ تکمیل تعلیمی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کر کے تعلیمی سہولیات کی بحالی یقینی بنانا ہے۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کی تباہی سے نکلنے کا سفر ایک دن، ایک سال یا ایک منصوبے میں مکمل نہیں ہوا۔ یہ ایک نسل کے صبر، محنت اور مسلسل کوشش کا سفر ہے اور اس سفر میں پاک فوج اور پاکستانی قوم کی مدد کی یاد کشمیری عوام کے اجتماعی حافظے کا ایک اہم حصہ ہے۔ ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے والے جوان، دور دراز علاقوں تک پہنچنے والے امدادی دستے، زخمیوں کو منتقل کرنے والے اہلکار، امداد لے کر آنے والے رضاکار، اپنے گھروں سے سامان نکال کر متاثرین تک پہنچانے والے عام پاکستانی اور اپنے دکھ میں دوسروں کو شریک کرنے والے کشمیری خاندان—یہ سب اس تاریخ کے کردار ہیں۔
8 اکتوبر نے شاید ایک ایسا منظر بھی دکھایا جسے اعداد میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف پہاڑوں کے درمیان بکھرا ہوا ملبہ تھا، دوسری طرف پاکستان کے مختلف علاقوں سے بڑھتے ہوئے مدد کے ہاتھ۔ ایک طرف خاندان اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے تھے، دوسری طرف اجنبی لوگ بھی اپنے ہی لوگوں کی طرح ان کے دکھ میں شریک ہو رہے تھے۔اسی مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے کا جو احساس پیدا ہوا، وہ وقت گزرنے کے ساتھ محض ایک امدادی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک گہری انسانی یاد بن گیا۔ کشمیر کے لوگوں کے لیے یہ یاد اس لیے بھی اہم ہے کہ تباہی کے بعد دوبارہ زندگی شروع کرنے کے سفر میں انہیں اپنے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کی مدد اور ہمدردی محسوس ہوئی۔
اکیس برس بعد اس سانحے کی طرف دیکھا جائے تو اس سفر کا ایک پہلو امید بھی ہے۔ جس علاقے میں ایک وقت میں ہر طرف ملبہ، خوف اور بے بسی تھی، وہاں دوبارہ گھر آباد ہوئے، سکول کھلے، بازار چلے، سڑکیں بنیں اور زندگی نے دوبارہ اپنا راستہ بنایا۔لیکن اس امید کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے کہ جو کچھ تعمیر ہوا، اسے محفوظ رکھا جائے اور جہاں کمزوریاں باقی ہیں، انہیں دور کیا جائے۔2005ء کے زلزلے کے بعد پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے سرکاری نظام کو بہتر بنانے اور آئندہ کے نقصانات کم کرنے کیلئے کئی اقدامات کیے گئے۔ قومی اور صوبائی سطح پر آفات سے نمٹنے کے ادارے قائم ہوئے اور قدرتی خطرات سے پہلے سے تیاری پر زیادہ توجہ دی گئی۔تاہم کسی بھی علاقے کی حقیقی تیاری کا اندازہ صرف اداروں کے وجود یا ماضی میں مکمل کیے گئے منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ موجودہ عمارتیں کس حد تک محفوظ ہیں، پرانی عمارتوں کی مضبوطی کا جائزہ کس حد تک لیا گیا ہے، سکولوں اور ہسپتالوں کے ہنگامی انتظامات کتنے مؤثر ہیں، امدادی اداروں کے پاس ضروری وسائل موجود ہیں یا نہیں اور دور دراز علاقوں تک ہنگامی صورت میں کتنی جلد پہنچا جا سکتا ہے۔زلزلے کے بارے میں کسی مخصوص دن اور وقت کی درست پیش گوئی ممکن نہیں۔ اس لیے توجہ پیش گوئی کے بجائے تیاری پر ہونی چاہیے۔ زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات، کمزور عمارتوں کی نشاندہی، خطرے والے علاقوں میں مناسب منصوبہ بندی، سکولوں اور سرکاری اداروں میں باقاعدہ مشقیں، ہسپتالوں کے ہنگامی منصوبے، ضروری امدادی سامان کے ذخائر، رابطے کے دوسرے ذرائع اور مقامی سطح پر تربیت یافتہ رضاکاروں کی موجودگی کسی بڑے زلزلے کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
8 اکتوبر 2005ء نے یہ دکھایا کہ قدرتی آفت چند لمحوں میں ایک پورے معاشرے کو آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ لیکن اسی سانحے نے یہ بھی دکھایا کہ تباہی کے بعد انسان دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہے، گھر دوبارہ بن سکتے ہیں، سکول دوبارہ آباد ہو سکتے ہیں اور راستے دوبارہ کھل سکتے ہیں، اگر ریاست، ادارے اور عوام مل کر کام کریں۔اس دن کو یاد کرتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کی وہ تصویریں بھی ذہن میں آتی ہیں جو ملبے کے درمیان امدادی کاموں میں مصروف تھے، دور دراز بستیوں تک پہنچنے والی امداد بھی یاد آتی ہے، اپنے حصے کا سامان متاثرین کے حوالے کرنے والے عام پاکستانی بھی یاد آتے ہیں، اور وہ کشمیری خاندان بھی یاد آتے ہیں جنہوں نے اپنے دکھ کے باوجود دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔یہی وہ یادیں ہیں جو کسی سانحے کو صرف تاریخ کا ایک صفحہ نہیں رہنے دیتیں۔ 8 اکتوبر کشمیر کی اجتماعی یاد میں ایک ایسا دن ہے جس میں دکھ بھی ہے، جدائی بھی، ملبہ بھی، مگر ساتھ ہی انسان کے ہاتھ کا ہاتھ تھام لینے، ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا سمجھنے اور تباہی کے بعد دوبارہ زندگی تعمیر کرنے کی کہانی بھی ہے۔
اکیس برس بعد اس دن کو یاد کرنے کا مطلب صرف ماضی کے زخم تازہ کرنا نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری کو سمجھنا بھی ہے۔ جو کچھ تعمیر ہوا، اس کی حفاظت ضروری ہے؛ جو کمزوریاں باقی ہیں، ان کی نشاندہی اور اصلاح بھی ضروری ہے؛ اور جو سبق 8 اکتوبر نے دیا، اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔کیونکہ قدرتی آفت کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن اس کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے تیاری کرنا ہمارے اختیار میں ہے۔ 8 اکتوبر 2005ء کی یاد شاید اسی وقت بامعنی ہوگی جب ماضی کی تباہی کو صرف ایک دردناک واقعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سبق کے طور پر دیکھا جائے جو ہمیں زیادہ محفوظ تعمیر، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت تیاری کی طرف لے جائے۔
ماضی کے ملبے سے بہت کچھ دوبارہ تعمیر ہوا، لیکن اس سانحے کا اصل سبق آج بھی ہمارے سامنے ہے: عمارتیں دوبارہ بنائی جا سکتی ہیں، راستے دوبارہ کھولے جا سکتے ہیں، سکول دوبارہ آباد کیے جا سکتے ہیں، مگر جو جانیں چلی جائیں وہ واپس نہیں آتیں۔ اور شاید 8 اکتوبر کی سب سے بڑی یاد یہی ہے کہ اس دن کشمیر نے بہت کچھ کھویا، مگر مشکل کی اس گھڑی میں اسے اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ ملبے کے درمیان اٹھنے والے مدد کے ہاتھ، زخمیوں کو اٹھانے والے کندھے، دور دراز بستیوں تک پہنچنے والی امداد اور اپنے حصے کا دکھ بانٹنے والے لوگ ایک ایسے انسانی رشتے کی یاد بن گئے جو برسوں بعد بھی دلوں میں زندہ ہے۔اس لیے آئندہ کسی ایسے سانحے میں جانی نقصان کم سے کم ہو، عمارتیں زیادہ محفوظ ہوں، امداد بروقت پہنچے اور کوئی خاندان بے بسی میں اپنے پیارے کی آواز سنتے ہوئے مدد کا منتظر نہ رہے، یہی 8 اکتوبر کی سب سے بڑی یاد اور سب سے اہم ذمہ داری ہونی چاہیے۔




