وفاقی حکومت سے ایک ارب موصول،14منصوبے مکمل،53دسمبر تک مکمل ہونگے، سیکرٹری سیرا

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)سیکرٹری سیرا رفاقت حسین خان نے آٹھ اکتوبر 2005ء کی اکیسویں برسی کے موقع پر کہا کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے حکومت آزاد کشمیر کی درخواست پر جون 2026ء میں تعمیرنو کے ادارہ (سیرا) کو ایک ارب روپے فراہم کردیئے۔

 ،اس رقم سے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں 67تعلیمی ادارے جن پر 80فیصد تعمیراتی کام مکمل ہوچکا تھا،کی تکمیل کا ہدف دیا گیاہے

جن میں سے اب تک 14منصوبے مکمل ہوکر متعلقہ محکمہ کے حوالے کئے جاچکے ہیں جبکہ باقی ماندہ 53منصوبے دسمبر 2026ء تک مکمل ہوجائیں گے۔

یہ منصوبے حکومت آزاد کشمیر کے 100روزہ اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہیں جن کا مقصد زلزلہ متاثرہ اضلاع میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی زیر تکمیل تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کرکے تعلیمی سہولیات کی بحالی یقینی بنانا ہے۔

 سیکرٹری سیرا رفاقت حسین خان نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005ء کو 7.6 شدت کے قیامت خیز زلزلہ نے زندہ بچ جانے والوں کی زندگیوں پرگہرئے نقوش مرتب کئے،زلزلہ کی قدرتی آفت نے آزاد کشمیر کی 56 فیصد آبادی کو متاثر کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر ڈیجیٹل نے آزادکشمیر میں شرپسندوں سے برآمد اسلحے کا سراغ لگالیا

 اس سانحہ میں آزاد کشمیر سے 46 ہزار سے زائد افراد شہداء، 33 ہزار زخمی، اور تین لاکھ سے زائد نجی املاک جبکہ خطہ کے 53 فیصد رقبہ پر موجود صحت،تعلیم، آب رسانی و نکاسی اور مواصلات کی سہولیات مکمل تباہ ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ  زلزلہ میں ہونے والے نقصان کا مجموعی تخمینہ اس وقت تقریبا 125 ارب روپے لگایا گیا (جس میں نجی شعبہ میں 61 ارب روپے جبکہ سرکاری دفاتر و عوامی سہولیات کے شعبہ میں 64 ارب روپے شامل تھے)۔

آزاد جموں وکشمیر کے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں 125 ارب روپے کے مالی نقصان کے بدلے میں تعمیرنو پروگرام کا مجموعی حجم 225 ارب روپے ہے جس کے خلاف 181 ارب روپے کے اخراجات عمل میں آچکے ہیں۔

آٹھ اکتوبر 2005 ء کے زلزلے میں سب سے زیادہ جانی نقصان ناقص طرز تعمیر کے باعث ہوا، سکولوں، کالجوں اور جامعات کی عمارات میں زلزلہ مزاحم پہلو کی عدم موجودگی اور ایسے سانحات سے نبرد آزما ہونے کیلئے پیشگی تیاری کے فقدان سے ہمیں ایک اعلی تعلیم یافتہ گراں مایہ نسل سے محرومی کا صدمہ جھیلنا پڑا، تعمیرنو کے ادارہ ”سیرا“ کی جانب سے مرتب کئے گئے 7608 منصوبوں میں سے 5878 منصوبے مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے حوالے کیے جاچکے ہیں۔

تعمیرنو پروگرام کی تکمیل کے لئے تقریبا 44 ارب روپے مزید درکار ہیں جن میں سے جاریہ منصوبہ جات کے لئے 20.113 ارب روپے اور بقیہ رہ جانے والے  منصوبہ جات کے لئے 24.013 ارب روپے شامل ہیں۔ 

  انسانی تاریخ کے اس المناک سانحہ میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے آپریشن، جسے آپریشن لائف لائن کانام دیا گیا، کی کامیابی کا سہرا بلاشبہ حکومت پاکستان، افواج پاکستان پاکستانی عوام برادر اسلامی دوست ممالک اور عالمی اداروں کے سرہے۔

 جہاں زلزلہ زدہ علاقوں کے عوام نے زندگی کی شروعات کیلئے بے نظیر ہمت واستقامت کا مظاہرہ کیا وہیں ایراء، سیرا، اور آزاد حکومت کے محکمہ جات نے زلزلہ سے ہونے والے نقصان کے تخمینہ، جلد بحالی کی حکمت عملی، موثر لائحہ عمل پر عملدرآمد کرتے ہوئے انتہائی مختصر عرصہ میں متاثرہ طبقوں کی بحالی کیلئے جس لگن اور جانفشانی سے شبانہ روز کام کیا و ہ بے مثال اور لائق تحسین ہے۔

ریلیف، ریسکیو، بحالی اور بعد ازاں تعمیرنو کے مراحل میں بین الاقوامی اداروں اور این جی اوز کا کردار اور معاونت مثالی رہے ہیں۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جدید زلزلہ مزاحم بین الاقوامی معیار کی سہولیات برادر اسلامی اور دوست ممالک کے تعاون سے تعمیر کی گئی ہیں۔

 گھروں کی تعمیر اور نجی املاک کیلئے زلزلہ مزاحم ڈیزائن کی تعمیرات کیلئے متاثرہ آبادی کو تربیت بھی دی گئی زلزلہ مزاحم پہلو کو پرائیوٹ گھروں کی تعمیر نو میں یقینی بنانے کے اعتراف میں ایراء کو سال 2011ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے ” ساساکاوا ایوارڈ ” سے نوازا گیا بلاشبہ اس عظیم سانحہ کی بحالی اور تعمیر نو سے جو تجربات اخذ ہوئے ہیں وہ مستقبل میں خدانخواستہ ناگہانی قدرتی آفات کے بہتر انتظام و انصرام میں ممدو معاون ثابت ہوں گے۔

 سیکرٹری سیرا رفاقت حسین خان  نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے زلزلہ سے متاثرہ ساتوں اضلاع (مظفر آباد، ہٹیاں بالا، نیلم، باغ، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی) میں سرکاری دفاتر عمارات وسہولیات کی تباہی کی باعث پبلک سروس ڈیلیوری میں بہت بڑا خلا پیدا ہوا جسے پورا کرنے کیلئے سیرا کی خصوصی انتظامی ڈھانچہ کے تحت بحالی وتعمیر نو کا آغاز ہوا، تعمیر نو پروگرام کی شعبہ دار موجودہ کارکردگی بذیل ہے شعبہ تعلیم کے 2718میں سے 1620تعلیمی ادارے مکمل ہوچکے ہیں۔

 جبکہ 501منصوبے زیر تعمیر ہیں،اسی طرح شعبہ صحت کے 160منصوبوں میں سے 119منصوبے مکمل 21پر کام جاری ہے،شعبہ ماحولیات جنگلات کے 160منصوبوں میں سے 119منصوبوں پر کام مکمل ہوچکا ہے 

جبکہ 43منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے، گورننس (سرکاری عمارات) کے 223عمارات میں سے 161پر کام مکمل ہوچکا ہے60منصوبوں پرتعمیراتی کام جاری ہے۔

 لائیولی ہڈ (زراعت وامورحیوانات) کے 1426منصوبہ جات میں سے 1038منصوبوں پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ جبکہ 251منصوبوں پر کام جاری ہے۔

 پاور کے 11منصوبہ جات مکمل کرکے متعلقہ محکمہ کے سپرد کردئیے گئے ہیں، سماجی تحفظ کے چھ منصوبہ جات مکمل ہوچکے ہیں، ٹیلی کمیونیکشن کا ایک اورٹاون پلاننگ (اربن ڈویلپمنٹ) کے دو منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں،

 ٹرانسپورٹ (مواصلات ونقل وحمل) کے 138منصوبہ جات میں سے 136منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں،واٹسن (آبپاشی ونکاسی آب) کے 2795منصوبوں میں سے 2714منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 28پر کام جاری ہے ۔