حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور میں بڑی پیشرفت ، دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذکرات کا دوسرا دو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔

اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک تھے۔

اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے کی تیاری جاری ہے اورمعاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جارہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برنالہ:پولیس اور معززین علاقہ کا مشترکہ اجلاس،کالعدم ایکشن کمیٹی کیساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان تحریری معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفودنے مذاکرات میں حصہ لیا۔حکومت اور  اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کیلئے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔

حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبازبان بھی استعمال کی گئی ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟

ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارےکیا کہیں گے،کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کا مؤقف ہے کہ ہم کھلےدل سے آئےہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طورپرختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پرخصوصی کمیٹیوں کےذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔

دونوں فریق قیادت سےمشاورت کے بعد اس حوالےسےفیصلہ کریں گے۔قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا ملک میں انصاف، آئین کو بحال کرو۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، بانی پی ٹی آئی کو علاج کیلئے شفا انٹرنیشنل  ہسپتال منتقل کیا جائے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے

سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے، امید پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا۔

شیری رحمان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر دیئے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتی، مذاکرات کی میز  پر اسپیس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاملات کو زیر غور لایا جائے، اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کرسکتا ہے مگر مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کرسکتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے 4 اکتوبر کا لانگ مارچ غیر مشروط طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ یا چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فریقین نے باہمی مشاورت کے بعد آج مذاکرات میں اپنے جوابات دینے کا لائحہ عمل طے کرلیا ہے۔ حکومتی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کرکے انہیں مذاکرات کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مطالبات سے آگاہ کردیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن وفد نے محمود خان اچکزئی سے بھی ملاقات کرکے مذاکرات کے آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی ہے۔