امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ قومی سلامتی مشیروں نے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ اجلاس کیا، جس میں ایران اور یمن کی صورتحال پر کئی گھنٹے مشاورت کی گئی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی زیرِ صدارت اجلاس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران جنگ کے آئندہ لائحہ عمل اور یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایگزیوس کے مطابق ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں میں پیشرفت نہ ہونے کے باعث ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر غور کر رہی ہے، اور ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ بڑی فوجی کارروائی کے امکان کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران کو سخت نشانہ بنانے کی دھمکی،10ہزار اضافی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی صورتحال پر بیان:
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایران سے متعلق صورتحال پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی صورتحال اچھی نہیں، آگے کیا ہوگا، جلد پتا چل جائے گا۔
امریکہ کی جانب سے ایران اور یمن کے امور پر کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے خفیہ اجلاس کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس میں شریک اعلیٰ عسکری اور سیاسی رہنماؤں نے موجودہ کشیدہ صورتحال کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا ہے تاکہ آئندہ کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔




