مارچ موخر کریں،شوکت یوسفزئی کا قیادت کو خط، تصدیق بھی کردی

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت کو خط لکھنے اور احتجاج مؤخر کرنے کی تجویز دینے کی تصدیق کر دی۔

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خط کارکنوں کے نام نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے نام تھا، تاہم خط لیک ہونے کے بعد انہیں اپنے موقف کی وضاحت کرنا پڑی۔

انہوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنا ذاتی تجزیہ پارٹی کے سامنے رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپ کی چیٹ لیک، لانگ مارچ موخر کرنے پر کارکنان قیادت پر برس پڑے

انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ 26 نومبر جیسے کسی ایکشن کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاسکتا ہے جس سے پی ٹی آئی پر پابندی کا جواز پیدا ہو۔

اسی لیے سیاسی فیصلے سوشل میڈیا یا یوٹیوبرز کے دباؤ میں نہیں ہونے چاہئیں اور سیاسی کمیٹی کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے فیصلے پر قائم ہیں اور پارٹی فیصلہ کرچکی ہے، اس لیے انہیں بھی اس فیصلے کو قبول کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ ہوا تو وہ سب سے آگے ہوں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو احتجاج کے لیے راستہ دینا چاہیےکیونکہ راستے بند کرکے احتجاج کی اجازت دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ راستہ دیا جائے تو پی ٹی آئی ہمیشہ پرامن رہے گی۔

دہشت گردی کے معاملے پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے، جبکہ پولیس اور فوج دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سرحد پار دہشت گردی روکنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور افغان شہریوں کی موجودگی کو دہشت گردی سے جوڑنا حساس معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر الزام تراشی کے بجائے حل تلاش کیا جائے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس میں وفاقی حکومت کو تجاویز بھی دی گئی تھیں۔ شہداء کے جنازوں میں وزرا اور منتخب نمائندوں کو شرکت کرنی چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ان کی رہائی کا مطالبہ پی ٹی آئی کا جائز مطالبہ ہے، جبکہ انہیں شفا اسپتال منتقل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔.

یہ بھی پڑھیں:پختونخوا میں گنڈاپور کی دوبارہ انٹری؟ بانی پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی کیلئے پیغام آگیا

بانی پی ٹی آئی سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل اور ان کے مقدمات کی سماعت ہونی چاہیے۔

شوکت یوسفزئی نے پارٹی کے اندر نظم و ضبط کے مسئلے کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بعض رہنماؤں کے متنازع بیانات پارٹی ڈسپلن کے لیے مسئلہ ہیں۔ اقبال آفریدی اپنے بیان پر قائم ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کا بجٹ بڑھا ہے تو اسے مناسب وسائل بھی فراہم کیے جانے چاہئیں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں۔