مظفرآباد: ویسٹرن بائی پاس پر مزدا بے قابو، چار گاڑیاں تباہ، 6 افراد زخمی

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)دارالحکومت مظفرآباد میں ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث مال بردار گاڑیاں شہریوں کیلئے خطرہ بننے لگی ہیں۔

ویسٹرن بائی پاس روڈ پر ایک تیز رفتار مزدا بے قابو ہو کر چار گاڑیوں سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں چاروں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ۔۔

حادثے میں چھ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی،81کنال اراضی تنازعہ شدت اختیار کرگیا، علاقے میں بڑے تصادم کا خطرہ

عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب نان کسٹم مزدا ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگیا اور سڑک پر موجود دیگر گاڑیوں کو یکے بعد دیگرے ٹکر مارتا چلا گیا۔

حادثے کے بعد مزدا ڈرائیور مبینہ طور پر موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ متاثرہ گاڑیاں سڑک پر تباہ حال حالت میں موجود رہیں۔

حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ شہریوں نے زخمیوں کو اپنی پرائیویٹ گاڑیوں میں ڈال کر ہسپتال منتقل کیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بروقت سرکاری امداد نہ پہنچنے کے باعث انہیں خود زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچانا پڑا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق پولیس تھانہ صدر حادثے کے مقام سے صرف چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے، تاہم اطلاع کے باوجود پولیس کی فوری آمد نہ ہو سکی۔

اس صورتحال پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پولیس اور متعلقہ ادارے حادثے کے فوری بعد موقع پر نہیں پہنچ سکتے تو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ان کی ذمہ داری کیا ہے؟

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں بارشیں گھاس کٹائی کے بعد کسانوں کیلئے زحمت بن گئیں

شہریوں کا کہنا ہے کہ مظفرآباد میں نان کسٹم مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت، رفتار اور فٹنس کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث آئے روز حادثات کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

انہوں نے انتظامیہ اور ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ویسٹرن بائی پاس سمیت شہر کی اہم شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی چیکنگ اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دہ بنایا جائے۔

دوسری جانب حادثے کے بعد پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور فرار ہونے والے مزدا ڈرائیور کی تلاش کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

زخمیوں کی حتمی طبی صورتحال اور حادثے کی مکمل وجوہات متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔