پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،وفاقی وزرا کے انکشافات

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جبکہ گزشتہ اڑھائی سے 3 سال کے دوران بیشتر دہشتگرد گروپس افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان ایک ’’سپر پراکسی‘‘ کے طور پر کام کر رہا ہے اور دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے گروپس افغانستان سے پاکستان آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات کو جہاد قرار نہیں دیا جاسکتا، ایسے حملوں میں ملوث افراد کو ڈالرز کے عوض استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈی آئی خان حملہ اور افغان باشندوں کا ملوث ہونا:

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ ڈی آئی خان کے امن میلے کی چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشتگرد حملے میں خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے، جبکہ دو ریسکیو اہلکاروں نے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کے مطابق دہشتگرد کارروائیوں کے بعد اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔ طلال چوہدری نے بتایا کہ ڈی آئی خان واقعے میں ملوث ایک دہشتگرد کی تصویر فوری طور پر نادرا کے نظام میں ڈالی گئی، تاہم اس شخص کا کوئی شناختی ریکارڈ سامنے نہیں آیا، لیکن بعد ازاں اوپن سورس معلومات کی مدد سے معلوم ہوا کہ مذکورہ دہشتگرد افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔ ان کے مطابق دہشتگرد اکثر جعلی نام استعمال کرتے ہیں، اور پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد ملوث افراد افغان شہری پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈوزیئرز، مذاکرات اور دیگر ذرائع سمیت ہر طرح سے افغان حکام سے رابطے کرکے دیکھ لیا، لیکن ہمارا ہمسایہ اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی سے بیک چینل رابطے قائم ہیں،عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ

خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید اور سیکیورٹی خدشات:

وزیر مملکت برائے داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مؤثر انداز میں کھڑی نہیں ہوئی۔ صوبے کی سیاسی قیادت نے گزشتہ 14 سال کے دوران سیکیورٹی فورسز کو وہ قیادت اور وسائل فراہم نہیں کیے جن کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نہ فرانزک لیب موجود ہے اور نہ ہی سیف سٹی کا مؤثر نظام، سیکیورٹی فورسز کے اختیارات بھی واپس لیے گئے اور سیکیورٹی فورسز کو فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے واپس کر دی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ دہشتگردی کے واقعات کے بعد پریس کانفرنسز میں افغانستان کا نام کیوں نہیں لیتے، جبکہ صوبائی حکومت کو انسداد دہشتگردی کے اجلاسوں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے لیکن وہ شرکت نہیں کرتے اور صرف این ایف سی کے پیسوں کے لیے اسلام آباد آجاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی مبینہ سرپرستی اور عطا اللہ تارڑ کے الزامات:

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے اور وہ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی قیادت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دے چکی ہے، مگر صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، کیونکہ پی ٹی آئی قیادت دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔ عطا تارڑ نے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں جنہیں جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لایا جا رہا تاکہ دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال ہونے والی ان گاڑیوں کا سراغ نہ مل سکے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ڈی آئی خان میں شہید ہونے والے بچوں کا خون کیا وزیراعلیٰ کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کے لیے جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی لیکن صوبائی حکومت نے انکار کر دیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت کا پختہ عزم ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا۔