امریکہ کیساتھ جاری جنگ ختم نہیں ہوئی، فیصلہ کن مرحلہ شروع ہوگیا: ایرانی آرمی چیف

تہران (کشمیر ڈیجیٹل)ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ اگر ایران تجارت نہیں کر سکتا تو کوئی بھی تجارت نہیں کرے گا۔

دشمنوں کواہم تجارتی گزرگاہ سےفائدہ اٹھانےنہیں دیں گے۔ امریکہ کیساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز سے امریکی جاسوس آبدوز پکڑ لی،ایرانی فورسزکا دعویٰ

ایرانی آرمی چیف نے کہا کہ اگر ایران کو جینے کا حق نہیں تو پھر کوئی بھی سکون سے نہیں رہ سکے گا۔

آبنائے ہرمز ہماری عزت اور وقار کی علامت ہے۔ دشمنوں کو اس اہم تجارتی گزرگاہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔

ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ نئے حملے کا جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار رہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے سے متعلق تجویز مسترد کردی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سرینگر: ہزاروں عارضی ملازمین کا اسمبلی کا گھیراو کرنے کا اعلان

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ جنگ حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے تاہم یہ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ان کے مطابق ایران کو حاصل کامیابی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل تیاری اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

امیر حاتمی نے کہا کہ ایران کے مخالفین کو 9 کروڑ آبادی والے ملک کے ساتھ نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور ایرانی عوام اپنے ملک کے دفاع کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

ایرانی فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ امریکا ایران پر دوبارہ حملے کرسکتا ہے تاہم ایرانی افواج کو مزید حملوں کا سامنا کرنے اور جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا ہوگا جب کہ ایران امریکا کو مزید سبق سکھائے گا۔