مظفرآباد : آزاد کشمیر ہائیکورٹ میں سڑکوں کی تعمیر سے متعلق توہین عدالت کے ایک اہم کیس کی سماعت کی گئی، جس دوران عدالت نے سڑکوں کا کام مقررہ مدت میں مکمل نہ کیے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی کارروائی کے دوران نامور سینئر قانون دان راجہ سجاد احمد خان درخواست گزار راجہ فیصل آزاد خان کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سڑکوں کی شمولیت کی ہدایات:
سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے چیف انجینئر تعمیرات عامہ شاہرات پونچھ کو گزشتہ عدالتی احکامات کی روشنی میں بقیہ سڑکوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔ محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے اس ضمن میں تین اہم سڑکوں کے بقیہ حصوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو باضابطہ طور پر تحریک بھجوا دی گئی ہے۔
جن سڑکوں کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں ان میں بشارت شہید روڈ کا بقیہ 4 کلومیٹر حصہ، دھیرکوٹ رنگلہ روڈ کا بقیہ 0.25 کلومیٹر حصہ، اور نعمان پور ملوٹ روڈ کا بقیہ ساڑھے 5 کلومیٹر حصہ شامل ہے، جنہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے اپنے گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور سڑکوں کا کام ادھورا رہنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ فاروق سمیت 14 سیاسی کارکنان کی گرفتاری ہائی کورٹ میں چیلنج
محکمہ تعمیرات عامہ کی رپورٹ اور توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا:
چیف انجینئر شاہرات پونچھ کی 21 ستمبر کی تحریک کی روشنی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سے رابطہ قائم کیا اور تینوں سڑکوں کے بقیہ حصوں کے ان منصوبوں کو رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی باضابطہ درخواست کی۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی جانب سے منظوری دیے جانے کے بعد ان منصوبوں کے تحت باقاعدہ ضابطہ منصوبہ بندی کی دستاویزات مرتب کی جائیں گی اور انہیں مجاز فورم کو ارسال کیا جائے گا۔
ان تمام پیش رفت کے بعد محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کی طرف سے عدالت عالیہ سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ محکمہ شاہرات کی حد تک توہین عدالت کی جاری کارروائی کو اب ختم کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے تفصیلی محکمانہ رپورٹ عدالت عالیہ میں جمع کرا دی گئی ہے، جبکہ مقدمے سے متعلق تمام متعلقہ مراسلوں کی نقول بھی اس رپورٹ کے ساتھ باقاعدہ طور پر منسلک کر دی گئی ہیں۔




